خوبرو PhDڈاکٹر ماہا علی کو آخری کال کس شخص نے کی؟ کیس میں نیا موڑ آگیا

کراچی(ویب ڈیسک) پولیس ڈاکٹر ماہا کی مبینہ موت کو گلے سے لگانے کے معاملے کی تحقیقات کررہی ہیں اور ڈاکٹر ماہا علی کو آخری کالز کرنے والے شخص اور پستول کے مالک سعد نصیر کی تلاش جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق پولیس کی جانب سے ڈاکٹرماہا علی کو آخری 3 کالز کرنے والے شخص کی تلاش جاری ہے،

جبکہ پولیس ان کے دوست جنید سےبھی تفتیش کررہی ہے، تاہم تاحال واقعے کامقدمہ درج نہ ہوسکا۔ کراچی پولیس نے میرپورخاص جا کراہل خانہ کے بیانات قلمبند کرلئے ہیں ، اب تک ڈاکٹرماہاعلی کیس میں 6 افراد کے بیانات ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب پولیس نے ڈیفنس میں خاتون ڈاکٹر ماہا علی کی مبینہ موت کو سینے سے لگانے کے معاملے میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے ، پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے ملنے والا اسلحہ کالائسنس سعد نصیرنامی شخص کے نام پر ہے۔ پولیس کے مطابق سعد نصیرنے 2010میں بشیر خان ٹریڈنگ کمپنی سےاسلحہ خریدا تھا اور جائے وقوع سے ملنے والا اسلحہ بیرون ملک سے بلوچستان آیاتھا۔ پولیس نے سعد نصیر کے ڈاکٹر ماہا سے روابط کے حوالے سے بھی تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔ یاد رہے 18 اگست کو ڈاکٹر ماہا شاہ نے اپنے آپ کو گولی مار کر موت کو گلے لگایا ، انہیں زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں، ماہا شاہ کے والد واصف شاہ ہی بیٹی کو اسپتال لے کر گئے تھے۔ ماہا شاہ کے انتقال کے بعد اہل خانہ نے کسی بھی قسم کی کارروائی سے انکار کیا اور میت آبائی علاقے میرپور خاص لے گئے ، ماہا شاہ میرپور خاص کے قریب گروڑ شریف کے گدی نشین کی بیٹی ہیں، ان کے والدین میں علیحدگی ہوچکی ہے اور دونوں نے دوسری شادی کر رکھی ہے۔

بشکریہ حسن نثار ڈاٹ پی کے

اپنا تبصرہ بھیجیں