بچے من کے سچے.مکتوب برطانیہ.عاطف علی ادریسی

بچے من کے سچے،بچے قدرت کا سب سے حسین اور نایا ب تحفہ ہیں،دنیا کے ہر خطے،ہر مذہب اور ہر ملک میں بچوں کے پیدائش سے لے کر ان کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے بطور خاص توجہ دی جاتی ہے،خاص طور پر بچے کی نفسیاتی تربیت پر،بچوں کا ادب لکھتے وقت خاص طور پر یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ جو ادب تخلیق ہورہا ہے وہ بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق ہو،ہمارے دین نے بھی ہمیں عورتوں اور بچوں سے بہتر حسن سلوک کا درس دیا ہے،خود رسالتماب محمد ﷺ بچوں سے خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے،حتی کہ جنگ کے دوران بچوں اور عورتوں پرحملہ کرنے سے منع فرمایا،بچہ اپنا ہو یاپرایا یا کسی دشمن کا،ایک حساس اور نرم دل انسان اسکے لئے بھی اپنے دل میں گوشہ رکھتا ہے،لیکن المیہ یہ ہے کہ دولت کی ہوس اور جنسی ہوس کی وجہ سے آج دنیا بھر میں بچے بھی غیر محفوظ ہوچکے ہیں،بچوں کے حوالے سے جنسی جرائم کے علاوہ ایک اور اذیت ناک اور غیر انسانی جرم عرب ممالک میں اونٹوں کی ریس میں بچوں کا استعمال ہے جو دیا بھر میں موجودبچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی مختلف این جی اوز کے شور مچانے پر بند ہوا،ور نہ اس کار بد میں پاکستان سے بھی کچھ گروہ بچوں کو اغواء کرکے عرب ممالک میں سمگل کرنے کے گھناؤنے جرم میں ملوث تھے،بچے صرف جنسی ہوس کا ہی نشانہ نہیں بنتے اسکے علاوہ ا ن سے بھیک منگوانے،زبردستی گھریلو ملازم رکھنے اور کوڑا چننے کا کام بھی لیا جاتا ہے،آج بچوں کے حوالے سے پاکستان کے صوبہ پنجاب کا علاقہ قصور ایک بار پھر میڈیا کی نظروں میں ہے،جہاں گزشتہ دنوں تحصیل چونیاں میں ایک ہی محلے کے تین معصوم پھول اغواء ہوئے اور بعد ازاں ہڈیوں اور ڈھانچوں کی شکل میں ان کی باقیات ملیں،قصور میں بچوں سے زیادتی اور قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں اس سے پہلے زینب کیس،ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف قصو ر میں روزانہ کی بنیاد پرزیادتی کے 12سے 15کیس مبینہ طور پر سامنے آتے ہیں،اس سے پہلے لاہور میں تھانہ ٹبی کی حدود میں 100بچوں کا قاتل جاوید اقبا ل سامنے آیا تھا،سوال اس بات کا پیداہوتا ہے کہ اس سارے منظر نامے میں پولیس اور حکومتیں کیا کررہی ہیں،ابھی تک ایسی قانون سازی کیوں نہیں کی گئی جس سے پاکستان بھربچے بچیوں سے ہونے والی زیادتیوں کو روکا جا سکے،ہر روز اخبارات اور میڈیا میں بچوں سے زیادتی،قتل اور زیادتی کی کوشش کی خبروں کی بھرمار ہوتی ہے،کہیں جگہ تو پولیس ملزمان کے دباؤ میں آکر مدعی مقدمہ کی ایف آئی آر ہی درج نہیں کرتے،اور اگر کر بھی لیں تو ایسی بوگس ایف آئی آر درج ہوتی ہے کہ اسکا سراسر فائدہ ملزم کو مل جاتا ہے،یا پھر متعدد ایسے کیسز جن میں کسی نوجوان لڑکی کی عصمت دری کی گئی ہو تو والدین بدنامی کے ڈر سے مقدمہ ہی درج نہیں کرواتے،قانون کی کمزوری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی نیز سست عدالتی نظام جہاں پیسے کے زور پر انصاف بک جانا عام سی بات ہو اس معاشرے میں کون شریف آدمی اپنی جوان بیٹی کی عزت لٹ جانے پر قانون کا دروازہ کھٹلھٹائے گا،جہا ں دولت اور طاقت کے بل بوتے پر جھوٹے گواہ بنا لئے جائیں،اور اگر کوئی بیچارہ سچی گواہی دینے پر آمادہ ہوجائے تو اس کے لئے زندگی اجیرن بنا دی جاتی ہے،لہذا ان تمام عوامل کے ہوتے ہوئے بچوں سے انفرادی طور پر یا بطور مافیا زیادتی کرنے والے ہوں،یا پھر بچوں کی پورنو گرافی کرنے والے،یہ سب اس قدر طاقت ور ہیں کہ ان کے آگئے ہمارے ارباب اختیار تاحال بے بس نظر آتے ہیں،گزشتہ دنوں بھی عمرہ سے واپسی پر چونیاں کے دورے میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے جب صحافیوں نے ان کی اس بارے کارکردگی پر تابڑ توڑ سوالات کئے تو عمران خان کے وسیم اکرم بوکھلا گئے اور ان کی مدد کو وزیر قانون راجہ بشارت اور چند دیگر وزراء ٹپک پڑے اور صحافیوں کو شکریہ بھول کر چل دئیے،بعد ازاں اخباری اطلاعات کے مطابق جناب بزدار افسران پر برس پڑے کہ یہ صحافی کیا کہہ رہے ہیں؟ میری بے عزتی کروا دی، اس موقع پر حسب سابق سرکار نے وزیر اعلی کے دورے کے درمیان متاثرہ بچوں کے والدین کو سوالات کرنے سے روک دیا گیا اور ہاں میں ہاں ملانے کا مشورہ دینے کے لئے بڑی تعداد میں سول کپڑوں میں سپیشل برانچ کیااہلکار تعینات کئے گئے تھے،ملکی تاریخ کی ناکام ترین اور نااہل حکومت نے قسم کھا رکھی ہے کہ سابقہ دور کی کسی اچھی روایت اور تعمیری کام کو نہ کرنے کی،شاید اسی لئے زینب واقعہ کے بعد زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری بل 2019جس کے تحت زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی کی تشکیل ہونا تھی،جہاں سے بچوں کی گمشدگی کی اطلاع ایمرجنسی الرٹ کی صورت میں صوبے کے تمام تھانوں تک فوری پہنچائی جاسکے گی،ملک میں بڑھتے ہوئے بچوں کے اغواء اور زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے یہ بہت اچھا قدم ہے لیکن یہ بل ابھی تک قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی فائلوں میں دب کر رہ گیا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بل کو سرد خانے سے نکال کر فوراً سے پہلے منظورکر کے نافذ کیا جائے تاکہ معصوم پھولوں کی زندگی بچائی جاسکے،

اپنا تبصرہ بھیجیں