رباعی گو شاعر محمد نصیر زندہ پروفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم رضوان منیر نے ایم فل کا مقالہ مکمل کر لیا

کلرسیداں ( پوٹھوہا نیوز ) رباعی کے نامور شاعر محمد نصیر زندہ پروفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم رضوان منیر نے ڈاکٹر فہمیدہ تبسم کی نگرانی میں ایم فل کا مقالہ مکمل کر لیا
اردو رباعی پر اپنے کام کے باعث زندہ اس اعزاز کے حق دار ہیں، انجم خلیق،زندہ کو رباعی کے فن پر مکمل دسترس ہے، پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری،رباعی کی دم توڑتی روایت کو حیاتِ نو بخشی،معین الدین
کلر سیداں (پ ر)ممتاز رباعی گو شاعر محمد نصیر زندہ پر وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد،کے ہونہار طالب علم رضوان منیر نے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فہمیدہ تبسیم اور سدر شعبی اردو داکٹر وسیم سجاد کی نگرانی میں اپنا مقالہ جمع کرا دیا ہے۔ رضوان منیر نے بڑی مھنت اور لگن سے رباعی کے استاد شاعر پر اپنا تحقیقی کام مکمل کیا۔ یہ مقالہ بلا شبہ اردو رباعی کی روایت کو تازہ دم کرنے میں مہمیز کا کام کرے گا۔اسلام آباد،پنڈی کے علمی ادبی حلقوں،اور صاحبان فکر و دانش نے نسیر زندہ کو مبارک دی اور ان کے فن کوسرہا۔ یاد رہے کہ استاد قمر رعینی مرحوم،حکیم سرو سہارنپوری مرحوم،پروفیسر فتح محمد ملک اور بر سغیر کے نامور شاعر، افتخار عارف پہلے ہی زندہ کی رباعی گوئی کو سندِ تحسین عطا کر چکے ہیں۔ملک کے ممتاز دانش وروں نے زندہ کو تہنینی پیغامات بھجوائے اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ممتاز شاعر انجم خلیق کا کہنا ہے کہ زندہ اپنے کمال فن، ریاضت سخن اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے عجز اور درویشی کی بنا پر اس اعزاز کے بہت زیادہ حقدار ہیں،جبکہ دانش ورِ عصرِ روان پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری نے اپنے پیغام میں کہا کہ زندہ کو رباعی کے فن پر مکمل دسترس اور عبور حاصل ہے۔پروفیسر ناصر منگل کا کہنا ہے کہ ا س سے بڑا اعزاز کسی شاعر کے لئے کیا ہو سکتا ہے،یاسر کیانی کا کہنا ہے کہ زندہ کی نازک خیالی اور زوربیان نے رباعی کو پھر سے زندہ کر دیا۔ یہ کام جہاں اعترافی حثیت رکھتا وہیں صاحبان _ نقد و نظر کو صلائے عام بھی ہے۔جبکہ معین الدین نے کہا کہ محمد نصیر زندہ کی ادبی خدمات کے سلسلے میں لکھا جانے والا مقالہ جہاں ان کے ادبی مقام کا کھلے بندوں اعتراف ہے وہاں فنِ رباعی کی تاریخ میں بھی ایک جاندار آواز کا اضافہ از بس قا بلِ ستائش ہے زندہ صا حب کی بیپناہ لگن اور ان کا ادبی ذوق فنِ رباعی میں ایک اہم اضافے کا باعث بنا۔وہ نہ صرف جاندار لب و لہجے کے حامل ہیں بلکہ ان کے ہاں ٹھوس فکری روایت بھی موجود ہے۔جو کہ ان کی تخلیقی کاوش کو وقیع بناتی ہے۔ آپ کی تخلیقی مساعی جہاں مبارک باد کی مستحق ہیں وہاں سرمد،بیدل غالب،مجید امجد، جوش ملیح آبادی قمر اور سید نصیر الدین نصیر کے بعد اردو میں رباعی کی روایت کی امیں بھی ہیں مستقبل میں صنفِ رباعی کو پھر اک نئی جہت اورنیا رخ ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔دریں اثنا زندہ صاحب کو سابق چیئرمین تحصیل کلر سیداں شیخ عبد القدوس،چوھدری اخلاق،معروف شاعر جنید آزر، ملک کے معروف کالم نگار،تجزیہ کار و شاعر طاہر یاسین طاہر اورلاہور سے ممتاز محقق و دانش سید نثار ترمزی سمیت علمی و ادبی شخصیات زندہ کو مبارک باد پیش کر رہی ہیں۔ جبکہ زندہ نے اپنے اس اعزاز کو اپنے دوستوں کے نام کیا ہے۔یاد رہے کہ نصیر زندہ تحصیل کلر سیداں کی پہلی علمی شخصیت ہیں جن کے کام علمی و ادبی کام کے اعتراف میں ایم فل کا مقالہ لکھا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں