کلرسیداں کی عوام آج بھی چوہدری نثار علی خان کو یاد کرتی ہے

کلرسیداں(قیصراقبال ادریسی ) میونسپل کمیٹی کلرسیداں یونین کونسل کلرسیداں اور یونین کونسل درکالی معموری کو ملا کر 23وارڈ پر مشتمل قائم کی گئی تھی سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا سابقہ حلقہ ہونیکی وجہ سے میونسپل کمیٹی کلرسیداں مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھی جاتی ہے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں میونسپل کمیٹی کلرسیداں میں مسلم لیگ ن نے اکثریتی نشتیں حاصل کیں مسلم لیگ ن کے گڑھ سمجھی جانے والی میونسپل کمیٹی کلرسیداں میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سٹی ناظم کلرسیداں محمد اعجاز بٹ کے صاحبزادے عاطف اعجاز بٹ نے اپنی سیاسی بصیرت سے میونسپل کمیٹی کلرسیداں سے کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھا، عاطف اعجاز بٹ میونسپل کمیٹی کلرسیداں میں اپنا خاصا سیاسی اثر رسوخ رکھتے ہیں آمدہ بلدیاتی انتخابات میں سابق سٹی ناظم محمد اعجاز بت اور سابق ممبرایم سی عاطف اعجاز بٹ کا انتہائی اہم کردار ہوگا۔شنید یہ بھی ہے کہ آمدہ انتخابات میں محمد اعجاز بٹ بطور چیرمین ایم سی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں ان کے قریبی ساتھی سابق سٹی نائب ناظم چوہدری زین العابدین عباس جو کہ اب مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں لیکن ماضی میں وہ محمد اعجاز بٹ کے ساتھی رہے چوہدری زین العابدین عباس میونسپل کمیٹی میں آمدہ انتخابات میں اہم رول ادا کریں گے وہ اپنے علاقے میں خاصا ووٹ بینک رکھتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بلدیات میں وہ کس کی حمائت کرتے ہیں اور کس کے ساتھ پینل بناتے ہیں میرے ذرائع کے مطابق چوہدری زین العابدین بلدیاتی انتخابات میں محمد اعجاز بٹ کے ساتھ اشتراک کرسکتے ہیں اس معاملہ میں دونوں کے درمیان یہ بات طے ہوچکی ہے یہ بات کس حد تک درست ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ وہ جس کے ساتھ بھی پینل تشکیل دیں گے وہ پینل ایم سی کا مضبوط پینل تصور ہوگا۔مسلم لیگ ن کی طرف سے متوقع امیدواروں میں شیخ حسن ریاض، چوہدری اخلاق، راجہ ظفر محمود ہوسکتے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سابق ٹاؤن ناظم ملک سہیل اشرف جو کہ پہلے تحصیل کے امیدوار تھے اب ان کے بارے میں یہ بازگشت ہے کہ وہ میونسپل کمیٹی میں بطور چیرمین حصہ لیں گے، اس سے قبل میونسپل کمیٹی کلرسیداں میں پی ٹی آئی کی کوئی خاص نمائندگی موجود نہیں صرف ایک ہی سیٹ پر پی ٹی آئی نے کامیابی حاص کی تھی اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ملک سہیل اشرف مسلم لیگ ن کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر اپنا پینل کس طرح تشکیل دیتے ہیں۔سابق ممبر ایم سی کلرسیداں عابد حسین زاہدی نے بھی مسلم لیگ ن کی نشست پرایم سی کلرسیداں سے کامیابی حاصل کی تھی انہوں نے منتخب ہوتے ہی واٹر سپلائی سکیم کے لیے چوہدری نثار علی خان کو خط لکھا جس پر چوہدری نثار علی خان نے واٹر سپلائی سکیم کے لیے پانچ کروڑ روپے کی گرانٹ جاری کردی اس کے علاوہ بھی گلیات کے تعمیر کے لیے کروڑوں روپے کے ترقیاتی کام کرواے جن میں بجلی کے پول کی گرانٹ بھی موجود تھی جو لیفٹ اوور آبادی میں لگائی گئی، میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان جب اختلافات ہوے تو عابدزاہدی نے چوہدری نثار علی خان کے بیانیہ سے اتفاق کرتے ہوے اپنی سیاسی وابستگی چوہدری نثار علی خان کے ساتھ قائم کر لی گزشتہ عام انتخابات میں عابدزاہدی نے آزاد امیدوار راجہ صغیر احمد کی حمائت کی اور انہیں کامیابی دلائی گویا کہ ان کی سیاسی وابستگی چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ہے مگر انہوں نے راجہ صغیر احمد کو سپورٹ کیا جس پر راجہ صغیر احمد نے انہیں ترقیاتی گرانٹس جاری کیں، عابدزاہدی نے سیاست میں آنے کے بعد ایک مثال قائم کرتے ہوے اپنے سیاسی حریف نصیر اختر بھٹی کے گاؤں ڈھوک بھٹیاں میں 37لاکھ روپے کی گرانٹ سے سیوریج اور روڈ کی تعمیر کروا کر یہ ثابت کردیا کہ وہ شرافت کی سیاست کو فروغ دیتے ہیں۔کلرسیداں میں چوہدری نثار علی خان گروپ کا سیاسی اثر تا حال موجود ہے جس میں ان کی ترقی کے نشانات آج بھی کلرسیداں میں موجود ہیں اور کلرسیداں کی عوام آج بھی چوہدری نثار علی خان کو یاد کرتی ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کلرسیداں میں چوہدری نثار علی خان گروپ ایک مضبوط گروپ کے طور پر سامنے آسکتا ہے جو آزاد حثیت سے الیکن میں حصہ لے گا جس کی سرپرستی چوہدری نثار علی خان کرسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں