پولیس اصلاحات پر عمل درآمد 62پولیس سب انسپکٹرز کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے پولیس اصلاحات پر عمل درآمد کرنے کے لیے پہلا آفیسر وفاقی دارالحکومت میں چن لیا،ابتدائی طور پر 62پولیس کے سب انسپکٹرز کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا،فہرست تیار، پہلے مرحلے میں کرپٹ نااہل کریمنل اور نیب سے پلی بار گین کرنے والے 62 سب انسپکٹرز کو جبری ریٹائرڈ کرنے کے لیے فہرست تیار کرکے وزارت داخلہ کو ارسال کی گئی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں انسپکٹرز،ڈی ایس پیز اور دیگر کرپٹ افسران کے خلاف ایکشن لیا جائے گا اثاثہ جات اور ان کے ریکارڈ سے متعلق جامع فہرست مرتب کی جا رہی ہے جبری ریٹائرڈ/برخاست ہونے والوں میں سب انسپکٹرز ارشد محمود،مشتاق احمد،محمد صالح،محمد علی،محمد شہباز،مسعود حسین،نعیم فاروق،شاویز اختر،محمد خان،ارشد احمد،شفقات علی،مسرت حسین،محمد حنیف،محمد صفدر،مختار ویگیو،نعیم اقبال،امتیاز احمد،قاسم علی شاہ،نذیر علی،طارق رائوف،محمد ناصر،محمد اقبال،تاثیر حسین،طالب حسین،محمد شریف،برخودار محمد اقبال،ضیاء الحق،خضر حیات،عارف محمود،محمد سلیم،افتخار حسین،غلام جیلانی،رفیع اللہ،ہیبت علی،محمد فاروق،سرفراز احمد،محمد طارق،زاہد اکبر،محمد اصغر،قمر عباس،نواز احمد،عبدالسلام،اختر حسین،انوار الحق،محمد یونس،ظفر اقبال،مقبول حسین،محمد نواز،محمد اشرف،شاہ جہان،محمد بنارس،اختر اقبال،اعجاز احمد،ظفر اقبال،عبدالحمید،برکت حسین محمد خان،احمد زمان،محمد جمیل اور محمد حنیف شامل ہیں ان کے خلاف نہ صرف مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں بلکہ کریمنلز سے رابطے اور ناجائز اثاثہ جات،نیب مقدمات و پلی بارگین میں ملوث پائے گئے ہیں ان کے خلاف کاروائی محکمہ کے کرپٹ افسران نے التواء کا شکار رکھی ہوئی تھی جس پر آئی جی جمیل الرحمن نے نوٹس لے کر لسٹ وزارت داخلہ کو ارسال کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں