احتیاط لازم ہے. مکتوب برطانیہ. عاطف علی ادریسی

سابق سوویت یونین موجودہ روس کی جانب سے دسمبر 1979میں دریائے آمو پار کرکے افغانستان پر حملہ اورقبضے کے بعد سے لے کر آج 40سال ہونے کو آئے افغانستان کو امن دیکھنا نصیب نہیں،سوویت یونین کی شکست اور 1988میں جینوا معاہدہ سائن ہونے کے موقع پر بھی جنرل ضیاء الحق کا یہی موقف تھا کہ افغانستان سے روسی فوج کی واپسی امریکہ کی جانب سے افغانستان میں مستقل اور پائیدار امن کے قیام کی ضمانت تک یہ معاہدہ نہ سائن کیا جائے لیکن اس وقت کے وزیر اعظم جونیجونے اس بات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے معاہد ہ سائن کردیا اور وہی ہوا جس کا خدشہ تھاروسی فوج کی واپسی کے بعد تمام متحارب افغان گروپوں نے اقتدار کے لئے آپس میں لڑنا شروع کردیا،جس سے امن کی بجائے مزید خرابی پیدا ہوئی،اور حتی کہ1991میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے خانہ کعبہ میں تمام افغان گروپوں کے درمیان جنگ بندی کامعاہدہ کروایا لیکن کوئی ایک گروپ بھی اس پر عمل درآمد نہ کرسکا،یہ صورتحال 8سال رہی یعنی 1988سے لے کر 1996تک افغانی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار رہے،1996وہ سال ہے جب اس میں ایک نئے فریق کا اضافہ ہوا،جس نے آدھے سے زائد افغانستان میں امن قائم کردیا،یہ گروپ تھا مختلف مدارس سے فارغ التحصیل نوجوانوں کا جنہوں نے اپنی پہچان طالبان کے نام سے کروائی،جس کا امیر ملا عمر نامی ایک شخص بنا،اپنے کٹر دیو بند اور شدت پسند مذہبی نظریات کی بنا پر اس گروپ نے مخالف مذہبی گروپوں اور غیر مسلوں کے خلاف سخت ترین رویہ اپنایا،تاہم طالبان کے دور میں افغانستان کو کسی حد تک امن نصیب ہوا اور پوست کی کاشت بندہوئی،طالبان نے رفتہ رفتہ افغانستان کے ایک بڑے رقبے کو اپنے قبضے میں لے لیا،لیکن شمالی اتحاد کے احمدشاہ مسعود کے ساتھ طالبان کی جنگ کافی عرصے جاری رہی،طالبان اپنے شدت پسندانہ رویے کی بناء پر مغربی ممالک میں ناپسندیدہ کہلائے،خاص طور پر عورتوں کو تعلیم دینے،بامیان کے بت توڑنے،مردوں کی ایک خاص مذہبی وضع قطع پر زور دینے اور کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ انجم کو دھوکے سے قتل کرنے جیسے اقدامات سے طالبان کے حوالے سے بیرونی دنیا میں کوئی اچھا تاثر نہیں گیا،اس دوران طالبان نے سعودی شہری اُسامہ بن لادن کو اپنے ہاں پناہ بھی دے دی جس نے جلتی پرتیل کا کام کیا،یہ سلسلہ چلتا رہتااگر بیچ میں نائین الیون کا سانحہ پیش نہ آتا،جب امریکا نے بدمست ہاتھی کی طرح بنا سوچے سمجھے اس کا ذمہ دار افغانستان اور مسلمانوں کو ٹھہرایا،اور پوری دنیا کو امریکی صدر کی جانب سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں،پاکستان جو کہ شروع دن سے افغانستان کے مسئلے پرامریکی اتحادی تھا اور طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ تھی اس پر بھی دباؤ ڈالا گیا اور چونکہ ملک اس وقت فوجی آمریت میں جکڑا ہوا تھا لہذا کولن پاؤل کی ایک ہی فون کال پر پرویز مشرف نے گھٹنے ٹیک دئیے،پھر جو ہوا وہ جنرل ضیاکے دور میں چلائی گئی افغان جہاد کی فلم کاپارٹ ٹو تھا بس فرق تھا تو یہ کہ فلم فاروڈ کی بجائے ریوئنڈ چلی،افغانستان میں ایک بار پھر غیر ملکی مداخلت سے دنیا بھر کے عسکریت پسندوں نے خطے کا رخ کرلیا،پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں طالبان کے حامی گروپوں نے سراُٹھایا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی عملداری قائم کر لی جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کا آغاز ہوجو تاحال جار ی ہے۔ہمارے فوجی جوان ہوں یا سویلین،سکول کے معصوم بچے ہوں یا مساجد میں عبادت کرنے والے کوئی بھی ان دہشت گردوں کے ہاتھو ں سے نہ بچ سکا،امن کے لئے ہماری قوم اور افواج نے بھاری قربانیاں دے کر حکومتی رٹ بحال کی،دوسری طرف امریکا لاکھوں ڈالر خرچ کرکے بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہااور اُسے طالبان کے ساتھ مذکررات کی میز پر آنا پڑا،جو ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوچکے ہیں،سوال اس بات کا پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک پاکستان پرائی جنگ لڑے گا؟کب تک ہم اچھے طالبان اور برے طالبان کے چکروں میں پڑے رہیں گئے،بہتر ہی ہے کہ طالبان اور امریکہ کو اپنے اپنے حال پر چھوڑدیاجائے۔ہاں ایک بات کا خدشہ ضرور ہے کہ طالبان کے دوبارہ طاقت اور اقتدار میں آجانے سے کہیں پھر وہی کام شروع نہ ہوجائیں جو ماضی میں طالبان کا خاصہ رہے ہیں اور جن کی وجہ سے پاکستان میں مذہبی فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہوا یا پھر دوسری صورت میں اگر امریکا مکمل طور پر افغانستان سے نہیں جاتا تو پھر بھی خطرے کی تلوار پاکستان پر لٹکی رہے گی،یعنی ہردوصورتوں میں پاکستان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا،ہماری قوم اور ہماری افواج نے بہت محنت اور قربانیاں دے کر امن قائم کیا ہے،اگر امریکاطالبان سے اس بات کی ضمانت نہیں لیتا کہ وہ ماضی کی طرح کسی شدت پسند یا عسکریت پسند کو اپنی صفوں میں پناہ نہیں دیں گے تو پھر کچھ بات بن سکتی،وگرنہ ماضی میں اس حوالے سے طالبان کا ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں، ایک مخصوص مذہبی فرقے اور کٹھ ملائیت کے حامل لوگوں سے کسی خیر کی توقع عبث ہے، ذرا سی غلطی سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دے گی،احتیاط لازم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں