معاشرے کی بیٹیاں

بیٹیوں کو صرف شادی کر کے روانہ کرنے کی فکر کی بجائے اس کے مستقبل کی فکر کرنی چاھئیے۔ اسے پڑھا لکھا کے کوئی اچھا سا ہنر سکھا کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھایا جائے جس طرح ہم بیٹوں کو ان کے پیروں پر کھڑا کرتے ہیں, تو اس سے نا صرف لڑکی کا مستقبل محفوظ ہوگا بلکہ والدین کی فکر بھی کم ہو گی لیکن ہمارے معاشرے میں والدین بیٹیوں پر حکومت کرتے ہیں ان کی پسند ناپسند پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے یہ سب میں نے جب سمجھا جب اپنا نکاح نامہ دیکھا میرے سارے حقوق کاٹ دیۓ گیۓ تھے یہ سب مولویوں کے کارنامے ہیں جنہوں نے والدین کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کہ اسلام عورت کو کتنے حقوق دیتا ہے, عورت کو کمزور یہی بات بناتی ہے, بیٹی کو عزت عزت کہہ کر اس کے جائز حقوق بھی والدین پورے نہیں کرتے, اس لئے میں نے اس پر لکھنا شروع کیا فیملی میں بولنا شروع کیا کہ ہم کیوں بیٹیوں کے حقوق پر کراس کا نشان لگا دیتے ہیں اسی لئے مرد جب چاہے عورت کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیتا ہے مردوں پر کوئی اخلاقی اور اسلامی پابندی نہیں لگاتے.والدین کا فرض ہے کہ اپنے بیٹوں کی طرح بیٹیوں کو بھی مضبوط بنائیں تاکہ زندگی میں ضرورت پڑنے پر وہ کسی کی بھی محتاج نہ بنے.بیٹیوں کو صرف شادی کر کے روانہ کرنے کی فکر کی بجائے اس کے مستقبل کی فکر کرنی چاھئیے۔ اسے پڑھا لکھا کے کوئی اچھا سا ہنر سکھا کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھایا جائے جس طرح ہم بیٹوں کو ان کے پیروں پر کھڑا کرتے ہیں, تو اس سے نا صرف لڑکی کا مستقبل محفوظ ہوگا بلکہ والدین کی فکر بھی کم ہو گی لیکن ہمارے معاشرے میں والدین بیٹیوں پر حکومت کرتے ہیں ان کی پسند ناپسند پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے یہ سب میں نے جب سمجھا جب اپنا نکاح نامہ دیکھا میرے سارے حقوق کاٹ دیۓ گیۓ تھے یہ سب مولویوں کے کارنامے ہیں جنہوں نے والدین کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کہ اسلام عورت کو کتنے حقوق دیتا ہے, عورت کو کمزور یہی بات بناتی ہے, بیٹی کو عزت عزت کہہ کر اس کے جائز حقوق بھی والدین پورے نہیں کرتے, اس لئے میں نے اس پر لکھنا شروع کیا فیملی میں بولنا شروع کیا کہ ہم کیوں بیٹیوں کے حقوق پر کراس کا نشان لگا دیتے ہیں اسی لئے مرد جب چاہے عورت کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیتا ہے مردوں پر کوئی اخلاقی اور اسلامی پابندی نہیں لگاتے.والدین کا فرض ہے کہ اپنے بیٹوں کی طرح بیٹیوں کو بھی مضبوط بنائیں تاکہ زندگی میں ضرورت پڑنے پر وہ کسی کی بھی محتاج نہ بنے.بیٹیوں کو صرف شادی کر کے روانہ کرنے کی فکر کی بجائے اس کے مستقبل کی فکر کرنی چاھئیے۔ اسے پڑھا لکھا کے کوئی اچھا سا ہنر سکھا کے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھایا جائے جس طرح ہم بیٹوں کو ان کے پیروں پر کھڑا کرتے ہیں, تو اس سے نا صرف لڑکی کا مستقبل محفوظ ہوگا بلکہ والدین کی فکر بھی کم ہو گی لیکن ہمارے معاشرے میں والدین بیٹیوں پر حکومت کرتے ہیں ان کی پسند ناپسند پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے یہ سب میں نے جب سمجھا جب اپنا نکاح نامہ دیکھا میرے سارے حقوق کاٹ دیۓ گیۓ تھے یہ سب مولویوں کے کارنامے ہیں جنہوں نے والدین کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کہ اسلام عورت کو کتنے حقوق دیتا ہے, عورت کو کمزور یہی بات بناتی ہے, بیٹی کو عزت عزت کہہ کر اس کے جائز حقوق بھی والدین پورے نہیں کرتے, اس لئے میں نے اس پر لکھنا شروع کیا فیملی میں بولنا شروع کیا کہ ہم کیوں بیٹیوں کے حقوق پر کراس کا نشان لگا دیتے ہیں اسی لئے مرد جب چاہے عورت کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیتا ہے مردوں پر کوئی اخلاقی اور اسلامی پابندی نہیں لگاتے.والدین کا فرض ہے کہ اپنے بیٹوں کی طرح بیٹیوں کو بھی مضبوط بنائیں تاکہ زندگی میں ضرورت پڑنے پر وہ کسی کی بھی محتاج نہ بنے.ہم کس جہان میں رہتے ہیں کیا یہ کوئی عقوبت خانہ ہے یہاں عورت کو جسمانی تعلق سے اوپر سوچا ہی نہیں جاتا تفریح عیاشی کی بات تو بہت دور ہے یہاں حالت یہ ہے کہ مجبور سے مجبور عورت بھی رات 9 بجے کے بعد اکیلی گھر سے باہر نہیں نکل سکتی عورت کے کریکٹر کو فوری نشانہ بنایا جاتا ہے،دراصل ہمارا معاشرہ بہت مفاد پرست ہے اسے بہن بیٹی بیوی پر حکم چلانے کی عادت پڑ چکی ہے جیسے وہ روبوٹ ہو اس کے پاس سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے بس جی حضوری کرتی رہے وہی عورت ان کے نزدیک اچھی عورت پاکیزہ عورت ہے،جبکہ جو باشعور انسان دوست مرد حضرات ہیں وہ بیوی کو انسان سمجھتے ہیں ہر بات میں مشورہ کرتے ہیں اسے احساس کمتری میں مبتلا نہیں کرتے اور آج ہر گھر میں فساد مچا رکھا ہے کیونکہ ہماری خواتین کو سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ کیسا behave رکھیں عورتیں ہی عورتوں کی دشمن بن چکی ہیں ساس نندوں کے روپ میں ،مرد حضرات جس میں سب سے پہلے باپ آتا ہے جو بیٹی کو اعتماد نہیں دیتا بس ڈراتا ہے پھر بھائ باپ سے دو ہاتھ آگے.. پھر اسے ایک جیل سے دوسری جیل بھیج دیا جاتا ہے پھر جو برداشت کرتی ہیں وہ ذہنی مریض بن جاتی ہیں اور جو برداشت نہیں کر سکتی وہ علیحدہ ہو جاتی ہیں پھر شوہر اگر بیوی کا ساتھ دے تو طعنے جورو کا غلام،ہم ذہنی بیمار معاشرے میں رہتے ہیں جہاں عورت انسان نہیں اس کو بولنے کا لکھنے کا اپنی سوچ پر چلنے کا اختیار بالکل نہیں ہے،ہم ذہنی بیمار معاشرے میں رہتے ہیں نہ سارے مرد برے نہ ساری خواتین بری،آپ غور کریں ذہنی مریضوں کے ہاسپٹلز میں مردوں کی تعداد اور خواتین کی تعداد میں تو خود ذہنی مریض ڈپریشن کا شکار رہی ہوں کتنے ہاسپٹلز کی خاک چھانی ہے کتنی خواتین کو ذہنی اذیت میں مبتلا دیکھا ہے. ہمارے معاشرے میں عورت گھٹن میں رہتی ہے کھل سانس لینا مشکل کر رکھا ہے.. کیا میں ایک چھوٹی سی خواہش پوری کر سکتی ہوں یہاں کہ کچھ دیر سمندر کنارے تنہا بیٹھوں.. کتنے مرد حضرات مجھے آتے جاتے گھوریں گے کتنے جملے سننے کو ملیں گے کسی یار کا انتظار کر رہی ہے بیغیرت عورت بیٹھی ہے اس عمر شرم نہیں آتی ایسی عورتوں کو، بنا جانے بنا سوچے سمجھے یہ تلخ جملے میرے منہ پر پڑیں گے کیونکہ میں ایک عورت ہوں کیسے اپنی خواہش پوری کر سکتی ہوں،کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں بتائیں آپ سب؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں