عورت جنس نہیں انسان ہے

ہم چودہ سو سال پہلے کی صدی میں پہنچ چکے ہیں جہاں بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا ان پر ہر طرح کی پابندی لگائ جا رہی ہے،پابندی تو اس معاشرے کے مردوں پر لگانی چاہیے تربیت کرنی چاہئے مگر افسوس مردوں کے ہوس پرست معاشرے میں ان مردوں کا زور عورت پر ہی چلتا ہے مردانہ کمزوری کے اشتہار فحاشی نہیں پھیلاتے جگہ جگہ شلواریں کھول کھول کر بیٹھنا فحاشی نہیں ہوتی،بس خواتین اپنے لئے کچھ بھی کریں وہ فحاشی لگتی ہے، کپڑوں نقابوں میں لپٹی عورت بھی برہنہ نظر آتی ہے گھور گھور کر اپنی ہوس پوری کرتے ہیں, پاکستانی مردوں کو ضرورت ہے اپنے دماغ کا علاج کروائیں کیونکہ فحاشی دماغ میں بھری پڑی ہے اسی لئے چھوٹے بچے بچیاں بھی محفوظ نہیں نہ قبر میں دفن عورتیں, مائیں اپنے بیٹوں کی تربیت کریں دس بارہ بچوں کی تربیت تعلیم ایک ماں نہیں کر سکتی باپ کو محنت مزدوری سے فرصت نہیں کھانے کو دے نہیں سکتے پورے کپڑے اچھی تعلیم اچھا مستقبل دینے کے لئے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے جب اتنے پیسے کما نہیں سکتے تو بچوں کی تعداد کم رکھنی چاہیے تا کہ سسکتے بچے ہوس کا نشانہ نہ بنے نہ ہی باپ کو خود کشی کرنی پڑے گی اللہ نے دماغ دیا ہے تو اسے استعمال کیجیۓ دماغ کے زنگ اتاریۓ رحم کریں اپنی اولادوں پر بھی اور معاشرے پر بھی سچائ لکھنے والی خواتین بھی کچھ مردوں کو بری نظر آتی ہے پڑھے لکھے جاہل معاشرے میں عورت گونگی بہری جانوروں جیسی زندگی گزارے وہی اچھی عورت لگتی ہے،غلیظ بدبودار مردوں سے بھرا معاشرہ جس میں انسان کم درندے زیادہ بناۓ جاتے ہیں جہاں مردہ عورت محفوظ نہیں وہاں مردوں کی آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھنی چاہیئں عورت کو کالے نقاب پہنا کر فائدہ نہیں ریپ عورتیں نہیں کر رہیں مردوں کی تربیت والی بات مجھے کہیں پڑھنے کو نہیں ملتیں کہ مردوں کی تربیت کی جائے کہ جس طرح اپنے گھر کی خواتین عزت احترام کے قابل ہوتی ہیں اسی طرح معاشرے میں موجود خواتین بھی کسی کی عزت ہیں کسی کی بہن بیٹی ہے اس کی بھی عزت فرض ہے اپنے نگاہیں نیچی کر لیں,, خواتین انسان ہیں جانور نہیں جو آنکھوں سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھنا فرض سمجھتے ہیں یہ عورتوں کو محرم نہ محرم کہنے والوں نے چوبیس گھنٹے لیکچر عورتوں اور حوروں پر دیتے ہیں دماغ میں عورت حوریں فٹ کرتے ہیں اسی لئے ہر بچی بچہ عورت محفوظ نہیں ان پر سیکس سوار رہتا ہے اس کی ذمہ داری کوئ نہیں لیتا مولوی حضرات حوریں بیچنے میں لگے رہتے ہیں سرخ و سفید گودے والی ٹانگیں ابھرتے ہوئے پستان جب یہ سب بچے سنے گے تو پورن فلمیں دیکھیں گے ہی.. کھل کر لکھنا اب میری مجبوری ہے کیونکہ اس ہجوم کو عورت ہی قصور وار نظر آتی ہے،پھر یہاں ہم بات کرتے ہیں میرا جسم میری مرضی والی خواتین پر تو معزز حضرات یہاں کتنی خواتین میرا جسم میری مرضی کے بینرز لے کر نکلی تھی جو آپ کچھ خواتین کا ملبہ پورے معاشرے کی خواتین پر ڈال رہے ہیں،دوسری بات عورت انسان ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے مردوں کو جنم دینے والی آج مرد ان کو شریعت سیکھائیں گے کیا اسلام،صرف عورتوں پر نازل ہوا ہے مردوں پر تو صرف لونڈے لونڈیاں حوریں نازل ہوئی ہیں انہیں باتوں نے ہمارے معاشرے کو منافق بنا دیا ہے جملے تلخ ہیں پر یہ مہذب معاشرے کی حقیقت ہے اسے چھپانے سے معاشرے نہیں سدھرتے محترم حضرات،میں ایک عورت ہوں بیوی ہوں ماں ہوں مجھے میرا حق میرے شوہر نے دیا ہے مجھے انسان سمجھا ہے اسی لئے میں عورت کے حقوق پر لکھتی ہوں،معاشرے کے مردوں کو سدھارا جاۓ مائیں اپنے بیٹوں کی تربیت کریں تاکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوس پرستی ختم ہو،اب برقعے نقاب کے بعد ایک اور مسئلہ لڑکیوں کے تعلیمی ادارے یونیورسٹی لیول کی طالبات پر لپ اسٹک لگانے پر پیش آیا.کیا معاشرے میں موجود ہر برائی کی جڑ خواتین ہی ہوتی ہیں, میرے ایک فید فیس فرینڈ نے بہت اچھی بات کہی دنیا اپنے مسائل میں گھری ہوئی ھے ، امریکا ایران کی جنگ ہو یا آج عراق میں امریکی سفارت خانہ پر برسے تین میزائل ہوں ۔ انڈیا میں شہری قانون پر برپا ہنگامہ ہو یا چین میں کرونا وائرس ۔ فرانس میں مظاہرین کا مارچ ہو یا بڑی طاقتوں کے ورلڈ اکنامک فارم میں ہونے والے اہم فیصلے ہوں ۔ مگر اس سب کے دوران پیارے پاکستان کی اپنی ہی شان ہے جہاں پہلے لڑکیوں کو ریپ سے بچانے کیلئے برقعہ پہنانے کا نوٹیفکیشن آیا جبکہ آج پھر ایک تعلیمی ادارے نے لڑکیوں کی لپسٹک لگانے پر پابندی لگا دی ہے ۔ دنیا کے جو بھی مسائل ہوں مگر ہمارا اصل مسئلہ مردوں کو سرخی لگی عورتوں کی تباہی سے بچانا ہی ہے،کیا اس طرح پابندیاں لگانے سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے, دنیا بھر میں برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے قانون و انصاف مہیا کیا جاتا ہے کیمرے لگائے جاتے ہیں تاکہ انسانوں کی حفاظت کی جا سکے مگر ہمارے یہاں بہن بیٹیاں ہی ان برائیوں کی ذمہ دار ٹہرائ جاتی ہے اللہ نے عقل دی ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم نہیں رکھا پھر بھی ہم سچائ کو دیدہ دلیری سے جھٹلاتے ہیں بہت افسوس کا مقام ہے کہ مذہبی حضرات کو علاج کے لئے لیڈی ڈاکٹر تو چاہیۓ پر اپنی بہن بیٹیوں کو ڈاکٹر بنانا ضروری نہیں سمجھتے اور جن والدین نے اپنی بیٹیوں کو ڈاکٹر, الٹراساؤڈ, بلڈ ٹیسٹ, ڈلیوری ڈاکٹر بنایا , جو خواتین نرسیں بنی ہم ان ناشکرے کہتے ہیں یہ سب بری خواتین ہیں جہنمی ہیں زرا شرم نہیں آتی آج یہ سب نہ ہوتی تو عورتیں ایڑیا رگڑ رگڑ کر مر رہی ہوتی یا مرد ڈاکٹر ان کا علاج کرتے تب ان کی مفاد پرستی جھوٹی غیرت مر چکی ہوتی.. تربیت کا اہتمام نہیں کرنا پابندی لگانے پر زور دیئے جائیں پابندی تو خود بغاوت پر ابھارتی ہے ۔۔۔۔مذہبی عالم حضرات فتوے دینے کی بجائے بچوں کی آخلاقی تربیت پہلے کریں, پابندی لگائی مردوں پر بھی لگائ جانی چاہئے کہ غیر عورت کو دیکھ ہر اپنی نگاہیں نیچی کر لیں۔۔۔ہم سب سے پہلے سبق کو آخری سبق بناتے ہیں معصوم بچوں کے دماغوں میں حلال و حرام بھرنے کی بجاۓ انہیں اخلاقی تربیت دیں, جیسے غیر مسلم معاشروں میں اخلاقی تربیت پر زور دیا جاتا ہے،جن خواتین کو آپ نہیں جانتے ان کو گھورنے کی بجائے سیدھے گزر جائیں، اچھی بات کہیں سے بھی پڑھیں اسے اپنے معاشرے کے سدھار کے لئے لاگو کرنا چاہیے یہ توبہ توبہ کرنے سے جنت کے وارث نہیں بن جاتے پہلے اپنے معاشرے کو تو اہنے کردار سے جنت بنائیں جہاں ایک سال سے لے کر دس سال کی بچیوں بچوں کے ریپ قتل ہو رہے ہیں, انسان اپنی اصلاح کی کی ذمہ داریاں خود اٹھانا سیکھیں ..کیونکہ ہم خود کو سدھارنے کی بجائے دوسروں کو سدھارنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں،

اپنا تبصرہ بھیجیں