اُردو کی رشتہ داریاں

تین چار صدیوں سے اُردو نے سب کو وقت ڈالا ہوا ہے،اُردو کو مختلف زمانوں سے موسوم کیا جاتا ہے،کوئی اسے محمد بن قاسم کی سندھ آمد 712عیسوی کا عہد قرار دیتا ہے،کوئی محمود غزنوی کے اگست 1000میں حملے سے متعلق بیان کرتا ہے،اور کوئی اسے امیر خسرو کے زمانے کا کہتا ہے،کسی بھی زبان کے خدوخال بننے میں ایک سے تین صدیاں درکارہو تی ہیں،اُردو جب اپنی ماں کے بطن میں تھی تو یہ سولہویں صدی کا زمانہ تھا،زبان کو ئی مرغی کا انڈہ نہیں ہو تی،کہ اکیس دن بعد انڈے سے سرنکال لے،نہ ہی زبان کوئی انسان کا بچہ ہوتی ہے،کہ نوماہ بعد ماں کے پیٹ سے برآمد ہوجائے،زبان کا جنم ایک سے دو صدیوں میں ہوتاہے،اُردو کا منبع تلاش کرتے کرتے بہت سے محققین اور ناقدین پیوند خاک ہو گئے،اُردو کی اصل عمر تو کوئی مائی کا لال بھی نہیں جان سکتا،کیونکہ اُردو مونث ہے اور فی میل کی عمر دریافت کرنا آداب تہذیب کے منافی ہے،اُردو کا حسن و جمال اوائل عمری سے ہی خمار آلود اور تیکھا تھا،اس لئے ہر کس و ناکس کی نظریں اس پر گڑھی تھیں،اُردو کے بارے میں بالآخر انیسویں صدی میں طے پایا کہ اسکی جائے ولادت ہندوستان کی سرزمین ہے،یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اُردو کی ماں فارسی ہے،یہ بھی کھوج لگا لیا گیا کہ برج بھاشہ اُردو کا باپ ہے،عرصہ دراز تک اُردو کی ولدیت نامعلوم چل رہی تھی لیکن خاکسار نے بالآخر دریافت کرلیا کہ اُردو کا باپ آرین ہے،اگرچہ ڈاکٹر شوکت سبزواری اپنی کتاب ”اُردو زبان کا ارتقاء ” 1956 میں کہتے ہیں کہ اُردو کا مسلمانوں سے بہت گہرا تعلق ہے،وہ مسلمانوں کی ساختہ نہ سہی پرداختہ ضرور ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ اُردو کا ماموں ”برج بھاشہ ”ہے،جبکہ اُردو کا گماشتہ اپ بھرنش ہے اور اپ بھرنش کی داشتہ شورمینی ہے،انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اُردو نے انگریزی کو اپنا بوائے فرینڈ بنا لیا،حالانکہ انگریزی کی چار گرلز فرینڈز اطالوی،فرانسیسی،روسی اور جرمن تھی،انگریزی کو سفید چمڑی اور نیلی آنکھیں زیادہ پسند تھیں،اس لئے وہ اُردو پر فریقتہ ہونے کے بجائے اپنی چاروں گرل فرینڈز کے ساتھ ڈیٹس مارتی رہی،شکپیئر کے عہد میں اُس نے امریکن انگریزی سے لو میرج کرلی،تاہم اُردو نے انگریزی سے اپنی منگنی نہ توڑی جس پر انگریزوں نے اُردو کی وفاداری کو سراہنے کے بجائے اُسے”دقیانوسی ”یعنی کنزرویٹو کا خطاب دیا، ڈاکٹر سہیل بخاری کو اس بات سے بہت صدمہ پہنچا،اور کئی دن تک جان لیوا بخار میں مبتلا رہنے کے بعد اُنھوں نے اُردو کو اسکی حیثیت،مرتبہ اور اُس کی نسل کا بتایا کہ بیٹی تمہاری سرزمین برصغیر پاک وہند ہے،تمہیں اپنے ہی علاقے اور قبیلے کے کسی خوبرو نوجوان سے نکاح کرنا چاہیے،چنانچہ اُنھوں نے عالم جذبات میں ”اُردو کا روپ ”نامی کتاب لکھی،اور بتایا کہ اُردو کی کہانی اُتنی ہی پرانی ہے جتنی ”دراوڑی تہذیب ”ہے،اب دراوڑی تہذیب تو چار ہزار سال پرانی ہے،اُنھوں نے یہ بھی باور کرایا کہ مرہٹی زبان اُردو کی سگی بہن ہے،ڈاکٹر سہیل بخاری نے بخار کی حالت میں یہ بیان دیا تھا،اس لئے کوئی بھی مرہٹی کو اُردو کی سگی بہن ماننے پر راضی نہ ہوا،بالآخر ثابت ہوا کہ مرہٹی تو پڑوسن تھی،جو اکثر اُردو کی ماں سے لفظ اُدھار لینے آتی تھی،ہریانی،سنسکرت،ہندی اور مہاراشٹر ی اُردو کے سوتیلے بہن بھائی نکلے،کیونکہ فارسی خوبصورت تھی،اس لئے کافی زبانیں اُس پر عاشق تھیں،فارسی کو یکے بعد دیگرے چار شادیاں کرنا پڑیں،ایک ایران میں،دوسری ہندوستان میں،تیسری افغانستان میں اور چوتھی روس میں،اس لئے اُردوکے کافی سوتیلے بہن بھائی بھی پیدا ہوگئے،سگے بہن بھائی بھی کافی تھے،جن میں پنجابی،دہلوی،گجراتی،دکنی اور پراکرت سگے بہن بھائی تھے،ویدک محلے دار تھا،اور کافی شرارتی تھا،کشمیری ماموں زاد بہن تھی،برج بھاشہ خالو تھا،اپ بھرنش پھوپھا تھا،پالی اُردو کی گہری سہیلی تھی،عربی شروع سے اُردو کی سگی خالہ تھی،راجھستانی ممانی تھی،سندھی اور سرائیکی بھی چھوٹی پھوپھیاں تھیں،بلوچی اُردو کی چچی تھی،ترکی سے راہ وررسم تھی اور توقع تھی کہ وہ اُردو کا ہاتھ مانگے گا،لیکن ترکی نے ایک دن بڑوں کے کہنے پر اپنے ہاتھ میں پڑی ہوئی انگوٹھی اُردو کی انگلی میں پہنا کراُسے اپنا نام دے دیا،لیکن کچھ عرصہ بعد ترکی یورپ کی سے رعنائیوں میں کھو گیا،ترکی خوبصورت اور ہینڈ سم تھا،آباؤاجداد کی تعلق دار اور مذہبی قرابت داری بھی تھی،اس لئے نہ ترکی نے منگنی توڑی کیونکہ اُسے حسین وجمیل مشرقی نین ونقش والی شرمیلی اور رسیلی سے اُردو میں کشش محسوس ہوتی تھی،اس لئے اس نے اُردو سے اپنی منگنی قائم رکھی،اور اپنے نام کی مالا گلے میں ڈالے رکھی،اُردو کے دل میں بھی وجہیہ اور سرخ وسفید ترک منگیتر کی محبت رقص کرتی تھی،لہذا وہ بھی ترکی سے منسوب رہی،اسی دوران ترکی نے پورپی ممالک سے بے پناہ مراسم بڑھا لئے،بلکہ تین چار نکاح بھی کرڈالے،لیکن اُردو کو اندھا یقین تھا کہ یہ ایک دن جب وہ یورپ کی سفید چمڑی اور مصنوعی روشنیوں سے بیزار ہوگا تو واپس اُسی کی طرف پلٹے گا،اس سارے عرصے میں اُردو پشتو کے سحر میں گم رہی،کبھی اُسے بلوچی چاچی متوجہ کرتی،لیکن دل ترکی میں ہی اٹکا رہا،حافظ محمود شیرانی کہتے ہیں کہ اُردو پنجاب میں پیدا ہوئی،لیکن اُردو لفظ ایران میں مفول عہد کی یادگار ہے،مفول بگڑ کو مغل ہو گیا،اور مغل ترکی سے آئے،ڈاکٹر انور سدید اپنی کتاب ”اُردو ادب کی مختصر تاریخ ”میں رقمطراز ہیں کہ اُردو ترکی زبان کا لفظ ہے جب چنگیز خان لشکر لے کر دُنیا کی تسخیر پر نکلا،تو یہ لفظ ایشیا اور یورپ کی مختلف زبانو ں میں داخل ہو گیا،مطلب یہ کہ اُردو کا روپ اور معصومانہ بناؤ سنگھار دُنیا میں پھیلنے لگا،اور اُردو کے کئی عشاق پیدا ہوگئے،جارج گریرسن،چارلس لائل،پلیٹر کلا گ،تھامس روبک،فرانسکو ماریا دوتور،جان جو شیؤکٹیلر،ڈیوڈمل،جارج ہیڈلے،جوزف ٹیلر،گارساں دتاسی۔جان گلکرائسٹ،ڈاکٹر لائٹنر وغیرہ جیسے بے شمار نام ہیں،ان سب کو اُردو ست رغبت اور انسیت ہوگئی تھی،یہ سب اُردو کے پرستار بھی تھے عشاق بھی اور دوست بھی،ہندوستا ن میں بھی اُردو کا چار سو عشق پھیلا ہو تھا، اُردو کے سب سے قریبی اور سگے رشتوں میں فارسی،آرین،عربی،ہندی،سنسکرت،پنجابی اور دہلوی شامل ہے،لیکن اُردو کا مزاج ہی ایسا نکلا کہ رشتے بڑھتے گئے، اُردو کی رعنائی اور خوش اندامی نے سب گرویدہ کرڈالا، اُردو ابھی جب نومولود تھی تو سب نے اس کے اپنی اپنی مرضی سے نام رکھنے شروع کردئیے،عہد اکبری میں اُسے بڑے لاڈ سے اُردو ئے معلی، اُردوئے حضرت، اُردوئے لشکر سے پکارنے لگے،لیکن اُردو کے چاہنے والوں کو یہ مردانہ ساخت کے نام نہ بھائے،اورنگزیب عہد میں اسے اُردو بیگی کہنے لگے،سرسید احمد خان نے ‘آثار الصناید”میں اسے ” اُردو بازار”نام دیا،1788میں مراد شاہ نے ”نامہ مراد ”میں اسے ”حرف اُردو ”کہہ کہ پکارا،
وہ اُردو کیا ہے یہ ہندی زباں ہے
کہ جس کا قائل اب سارا جہاں ہے
تحسین نے اُسے ریختہ کہا،اور خود غالب نے اُسے پیار سے ریختہ ریختہ کہا
ریختے کے تم ہی اُستاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
محمد حسین آزاد نے ”آب حیات ”میں اس کی وجہ بیان کی ہے کہ: اس زبان کو ریختہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس مختلف زبانوں نے اسے ریختہ کہا ہے جیسے دیوار میں اینٹ،مٹی،چونا،سفیدی وغیرہ سے پختہ کرتے ہیں،گویا محمد حسین آزاد کے مطابق اُردو کو ریختہ یوں پکارا گیا،کہ یہ بہت ساری زبانوں کو ہمجولی نکلی،شیخ باجن نے اُردو کو زبان دہلوی کہہ کر بلایا،گجراتیوں نے اسکا نام گجراتی رکھ دیا،محمد امین نے اپنی تصنیف یوسف زلیخا میں اس ”دکنی ”کا نام دیا،ملا وجہی نے سب رس میں اسے ”زبان ہندوستان”کہا،شاہ میراں نے ”خوش نقر ”میں اسے ”ہندوی”کہا اور مصحفی نے اسے ” اُردو ”کہہ کر بلایا، اُردو کو اپنے لئے ” اُردو ”کا نام پسند آیا، اُردو کا نک نیم بھی اب اُردو ہی ہے، اُردو نے جغرافیائی حدودوقیود کو پسند نہ کیا، اُردو کو معلوم تھا کہ اس کے حسن میں تاثیر ہے اسکے اسم میں جادو ہے،اس کے لہن میں توانائی ہے،اس کا لہجہ غنائی ہے،اسکے وجودمیں دلربائی ہے، اُردو کا رنگ وروپ ملکوتی ہے،اس لئے جہاں جائے گی،دلوں کو لبھائے گی،اس لئے بہت جلد یہ پورے ہندوستان میں پھیل گئی،اگرچہ دُنیا کی سب سے بٹڑی زبان کمبوڈیا کی روتوکاس ہے جس کی حروف تہجی74ہیں،اور براعظم افریقہ میں 700زبانیں بولی جاتی ہیں،لیکن حقیقت یہی ہے کہ اُردو 37حروف تہجی رکھنے کے باوجود دُنیا کے 200ممالک میں سے 122ملکوں میں بولی جاتی ہے،سمجھی جاتی ہے،دُنیا کی کسی زبان میں ڑ اور ء نہیں ہے،لیکن اُردو میں ہے، اُردو کا افیئر جب سے انگریزی سے چلا ہے، اُردو میں بلا کی وسعت اور شیرنی آگئی ہے،کسی کم عقل اور کم فہم نے دُنیا کی پانشچ بڑی زبانوں کو رومانس لنگوئجزقرار دیا ہے،جن میں اطالوی،فرانسیسی،پرتگیزی،اسپینی اور رومانوی ہیں،جبکہ اُردو اور انگریزی اپنے خدوخال کے لحاظ سے سب سے زیادہ میٹھی،رسیلی،ملائم اور رومانوی ہیں، اُردو اور انگریزی میں گالی بھی گالی نہیں لگتی،دونوں زبانوں کے بولنے والے فطرتاًرومان پرورواقع ہوئے ہیں،وہ دن دور نہیں جب اُردو انگریزی کے نکاح میں آجائے گی، اُردو کی خوش مزاجی یا سفارت کاری دیکھئے،کہ چین جیسی مشکل زبان سے بھی کزن شپ کرلی ہے،فرانسیسی،روسی،جرمنی،ہسپانوی اور اطالوی زبانوں کی بھی سمدھی اور سمدھن بنانے کا عندیہ دے چکی ہے، اُردو میں ہرزبان گھل مل جاتی ہے، اُردو زبان اب تک کئی زبانوں کو چاٹ بنا کر کھا چکی ہے،ایران،افغان،متحدہ عرب امارات،سعودی عرب،مصر،ترکی،شام،لبنان،یمن،اُردن،اٹلی،یونان،جرمنی،فرانس میں اُردو نے نئے نئے رشتے بنائے ہیں،وہ دن دور نہیں جب اُردو اقوام متحدہ کو اپنا سمدھی بنائے گی،لیکن اُردو کو جتنا بھی خطرہ ہے وہ صر ف اپنے ملک پاکستان میں ہے کیونکہ یہاں بنائے ہوئے رشتے مصلحت کی ریت سے ڈھ جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں