میری ماں! (محمدجاویدچشتی)

کلرسیداں کی جانی پہچانی شخصیت،نعت گو،اُستاد،قلم کار،قانون دان،دھیما لہجہ،خوش لباس،چہرے پر ایک مسکان سی سجائے مکمل طور پر سیلف میڈ انسان محمد جاوید چشتی،جن کا تعلق ملحقہ گاؤں پنڈ سے ہے،کم لکھتے ہیں،لیکن کمال کرتے ہیں،معلمی کے شعبے سے اب فراٖغت ہوئی تو قانون کا پیشہ اپنا لیا،اس سے پہلے صحافت میں بھی اپنے جوہر دکھا چکے ہیں،مالی طور پر کسی بڑے خاندان سے تعلق نہیں،لیکن اس محنت کش انسان نے کبھی اپنی غربت کو آڑے نہیں آنے دیا،اپنی محنت اور بزرگوں کی دعاؤں کے طفیل آج اس مقام پر پہنچے ہیں،اپنی مرحوم ومغفور والدہ ماجدہ کے حوالے سے ان کی لکھی ہوئی ایک تحریر جو کہ جاوید صاحب نےدوسال قبل سوشل میڈیا کی نذ ر کی تھی،اور تحریر کیا تھی گویا دل نکال کر رکھ دیا،ماں کی لازوال محبت اور درد سموئے ہوئے جس کا ایک ایک لفظ گواہی ہے اس بات کی جو لوگ اپنا ماضی ہر دم یاد رکھتے ہیں،وہی دنیا میں سرخرو ہوا کرتے ہیں،ورنہ آج کل کے دور میں کون اپنے ماضی کو فخر سے بیان کرتا ہے،اگر ماضی غربت کے سائے میں گزرا ہو،جاوید چشتی صاحب کے خصوصی شکریے کے ساتھ اُن کی تحریر قارئین پوٹھوہار نیوز کی نذر ( صبور ملک )
میری ماں!


یہی کوئی نو دس سال عمرہوئی ہوگی جب میرے والد فوت ہوئے۔ میں اپنی والدہ محترمہ کے ہمراہ بگھارشریف اپنے ننھیال تھا۔ جس دن فوت ہوئے یاد پڑتاہے ہلکی بارش ہورہی تھی۔ ماں نے جب والد کے مرنے کی خبرسنی توبیٹھ گئیں اور اونچی آوازسے رونے لگیں۔مجھے بار بار سینے سے چمٹانے لگیں۔ چھوٹی بہن بینا تو دودھ پتی بچی تھی، صوبی بھی مجھ سے چھوٹی تھی۔ گھربار میں کہرام مچ گیا۔ مجھے اچھی طرح معلوم نہ تھا یہ مرنا کیاہوتاہے۔ اس لئے دوسروں کوروتے دیکھ کر میں بھی روتا رہا۔ جو بھی آتا میرے سرپرہاتھ پھیرتااور گلے لگاتا۔
والد محترم تومرگئے لیکن ہم روز روز مرنے کے لئے زندہ رہے۔ ماں دائمی بیمار۔ ایک گردہ کب کاختم ہوچکاتھا۔ کھانسی کادورہ پڑتا توگھنٹوں ہوش نہ رہتا، کھڑی ہوتیں تو بیٹھ جاتیں او رپھردیکھتے ہی دیکھتے زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگتیں۔ جب ہوش آتا توہم پانی پلاتے۔
آمدن کاکوئی ذریعہ نہ تھا۔ ننھیالی غریب اور ددھیالی منتظر کہ کب بھوکے پیٹوں زمین مکان چھوڑ کردفعان ہوں۔ رمضان کے بعدگاؤں کے چند احباب جو تھوڑا بہت زکوۃٰفطرانہ دیتے، وہ ماں اس قدرسنبھال سنبھال رکھتیں کہ چھ چھ ماہ تک وہی تھوڑی سی رقم ہمارے گھرکا چولہا جلائے رکھتی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے پی ٹی سی کے لئے رحمت آباد کالج راولپنڈی داخلہ لیا تو ماں نے پانچ روپے کاسکا دیاتھا۔ وہ سکا پورے چار ماہ تک میری جیب میں رہااور میں دیگرطلبہ کی طرح راکٹ بسوں کے چھتوں پر مفت سفرکرتارہا۔ میری ماں میری اس کفایت شعاری پر اس قدرخوش ہوتیں کہ اکثر مجھے پیار کرتیں اور کہتی کہ تم بہت عظیم بیٹے ہو کبھی فضول خرچی نہیں کرتے۔ وہ بہ ظاہر ہنستی رہتی لیکن مجھے معلوم تھاکہ ان کے دل پر کیا گزررہی ہے۔
میں نے کئی کئی سال انھیں ایک ہی جوڑ اپہنے دیکھا۔ بعض اوقات کپڑے اس قدرگھس جاتے کہ چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوجاتے۔ ایک بار وہ بہت سخت بیمارہوئیں، بچنے کی امید نہ رہی۔ گھرمیں صرف 50روپے موجود تھے۔ میں پریشان ہوکر سڑک کنارے کھڑا تھاکہ کنوہا والے ڈاکٹرسجاد اپنے موٹرسائیکل پر کلرسیداں جارہے تھے۔ میں نے انھیں روکا اور ڈرتے ڈرتے عرض کی: ”والدہ سخت بیمار ہے، اگرمہربانی فرمائیں تو گھرچل کرانھیں دیکھیں اور کوئی دوائی عنائت فرمائیں۔“
ڈاکٹرسجاد: ”کیوں نہیں، لیکن میں ابھی کلرسیداں جارہاہوں کچھ ادویات لینی ہیں، واپسی پر ضرور آپ کے گھرچلوں گا۔ آپ یہیں میرا انتظار کریں۔“
یہ کہہ کروہ توچلے گئے لیکن میں گھنٹوں سوچوں میں گم، کہ یااللہ اگرڈاکٹرصاحب نے زیادہ فیس مانگی تو پھرکیاکروں گا؟ ذہن میں آئی کہ ادھار کرلوں گااور ایک دودن تک ڈاکٹرصاحب کے کلینک دے آؤں گا۔ اسی شش وپنج میں تھاکہ ڈاکٹرصاحب واپس آتے دکھائی دیئے۔
وہ میرے ساتھ میرے گھرتشریف لائے۔
انھوں نے مریضہ کامعائنہ کیا، اور کہنے لگے کہ آپ کی والدہ کوسخت بخار ہے اور آپ نے ان پر یہ بوسیدہ سی موٹی چادر کیوں ڈال رکھی ہے۔ جب وہ چادر اٹھانے لگے تومیں نے ان کاہاتھ پکڑ لیا اورسختی سے جھٹکا۔ وہ حیران ہوئے اور غصے سے میری جانب دیکھنے لگے۔ میں نے گردن جھکالی اور دھیمی آواز میں کہا: ”ڈاکٹر صاحب! امی کے کپڑے بوسیدگی کے باعث کچھ مناسب نہیں، اس لئے ایسا کرناپڑا، آپ جائیں گے تویہ چادر اٹھادی جائے گی۔“ انھوں نے جب یہ سناتوان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ باہرنکلے اور موٹرسائیکل پر بندھے کاٹن سے ادویات نکالیں اور مجھے ان کے استعمال کی ترکیب بتائی۔ میں نے فیس پوچھی توکہنے لگے، ابھی رہنے دو، شاید پھرآنا پڑے۔ فیس پھرلے لوں گا۔ ماں تندرست ہوگئی، لیکن ڈاکٹر صاحب نے پھرکبھی بھی دوائی کے مجھ سے پیسے نہیں لئے اور جب بھی ملتے انتہائی عزت اور احترام سے پیش آتے۔ اللہ انھیں جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے۔
والدہ صفائی پسندتھیں، کپڑے گوپرانے ہوتے لیکن صاف ستھرے۔ روزانہ نہانا ان کی عادت تھی۔ پانچ وقت نمازباقاعدگی سے پڑہتیں اور ہمیں بھی نماز پڑھنے کی تاکید کرتیں۔بیماری کی حالت میں بھی انھوں نے نہانے کی عادت کونہ چھوڑا۔ ایک بار ڈاکٹرلاڈلے حسن صاحب نے بتایاکہ آپ کونمونیا ہوگیاہے، سردی سے اپنے آپ کوبچائیں۔ بڑی منتوں ترلوں سے دوتین دن انھیں نہانے سے باز رکھا۔
مرنے سے کچھ عرصہ پہلے انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ مجھے بگھارشریف کے سجادہ نشین حضرت پیر ڈاکٹرساجدالرحمن صاحب سے بیعت کرادو۔ میں نے مذاقاً کہا: ”سدھنوں نے کبھی بھی راجوں کوتسلیم نہیں کیا، ان کاویر اب توضرب المثل بن چکاہے۔“ کہنے لگیں: ”وہ جانیں اور ان کاکام جانے، میں تواس سعادت کواپنے لئے توشہ آخرت سمجھوں گی۔“ پھر حضرت صاحب میرے غریب خانے تشریف لائے اور میری والدہ محترمہ نے ان سے شرف بیعت حاصل کیا۔ اس نسبت پر وہ عمربھرخوش رہیں اور فخر کرتی رہیں۔
وہ صرف دوتین جماعتیں ہی پڑھی تھیں لیکن میاں محمدبخشؒ کی سیف الملوک اور قصہ یوسف زلیخا منظوم، ترنم سے پڑہتیں تو سماں بندھ جاتا۔ سردیوں کی راتوں میں کالے شیشے اور دھوئیں دار چمنی والی لالٹیں کی روشن میں جب وہ سیف الملوک شروع کرتیں تو ہم سارے ہمہ تن گوش ہوجاتے۔ انھیں پوری سیف الملوک زبانی یاد تھیں۔ میں کتاب دیکھ کر جب کوئی بھی شعر غلط پڑھتاتوفوری ٹوک دیتیں۔
جس طرح میرے پاس زمانہ طالب علمی میں روزانہ خرچ نہیں ہواکرتاتھااسی طرح میری دونوں بہنیں بھی خالی ہاتھ سکول جایاکرتی تھیں۔ میری بہن صوبی ایک جاننے والی استانی کے ہمراہ سکول جایا کرتی تھی۔ وہ آتے جاتے اس استانی کاپرس اٹھاتی تھی۔ وہ دوسری تیسری جماعت میں تھی کہ ایک دن یہ ہواکہ جب استانی نے پرس اس سے لیا تو اس میں 120روپے کم نہیں تھے۔ استانی صاحبہ نے میری بہن کومارناشروع کردیا۔ پورے سکول کے سامنے اسے چورکی طرح پیش کیا، وہ روروکر دھائی دیتی رہی کہ میں نے پیسے نہیں نکالے۔ خدا کے لئے مجھے سزا نہ دو، ہم غریب ضرور ہیں لیکن چور نہیں۔ وہ کب سننے والی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ رقم ایک اور لڑکی کے بیگ سے برآمد ہوگئی، لیکن استانی کو اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہ تھی۔ بہن نے گھرآکر روتے ہوئے جب پورا واقعہ ماں کوسنایا تو وہ کلیجہ مسوس کررہ گئیں اور ان کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل کر ان کے سفید دوپٹے میں جذب ہونے لگے، کہنے لگیں: بیٹا! غربت بہت بری چیز ہے، اللہ کسی دشمن کوبھی غریب نہ کرے اور پھرتم تویتیم بھی ہو۔“
مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے کپڑے سینا پہلے سیکھا ہواتھایا والد کے مرنے کے بعد سیکھا۔ ایک سلائی مشین ہتھی والی ہمارے گھرمیں موجود تھی۔ والدہ ہمارے پرانے کپڑوں کی سلائی کرتی رہتیں، کیوں کہ ہمارے سکول کے کپڑے بھی ددتین سال تک چلاکرتے تھے۔ سلائی مشین پر کام کرتے کرتے آخر عمرمیں ان کی بینائی متاثر ہوگئی تھی۔
کھانسی کے ساتھ ساتھ اب انھیں سانس کی تکلیف بھی شروع ہوگئی تھی۔ جن دنوں گندم کی گہائی ہوتی ہے، توبھوسے کے ذرات کی فضا میں موجودگی سے ان کاسانس بند ہونے لگتاتھا۔ ایک دن میں عصر کے وقت گھرآیا توان کی سانس اکھڑی ہوئی تھی۔ یہی گندم گہائی کے دن تھے، میں نے جلدی جلدی انھیں گاڑی کی عقبی سیٹ پر بٹھایااور اپنی اہلیہ کے ہمراہ تیزگاڑی دوڑاتے ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے جب موہڑہ پھڈیال سڑک کے قریب پہنچاہی تھا کہ والدہ ہمیشہ کی نیند سوگئیں۔ میں نے آنسوؤں کی برسات میں گاڑی موڑی اور گھرواپس آگیا۔ جب ان کی میت گھرپہنچی تومغرب کی اذان ہوناشروع ہوگئی۔اذان سن کروہ فوری طورپرنماز کی تیار ی کیاکرتی تھیں لیکن آج اذان ختم بھی ہوگئی مگروہ نہ اٹھیں۔ اللہ انھیں جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے۔ آمین
انھوں نے عمربھر ہوائی چپل ہی پہنی۔ وہ جوڑا جو آخر ی وقت ان کے پاؤں میں تھا، آج بھی ہمارے گھرموجود ہے۔ جب بہت پریشانی ہوتی ہے، اور زندگی کے دکھ گہرے ہوتے جاتے ہیں توماں کی ہوائی چپل کونکال کر اپنے سرپر رکھتاہوں تویوں محسوس ہوتاہے کہ ماں نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سرپررکھ دیئے ہیں۔ دکھ صرف اتناہے کہ جب ہم کچھ کمانے کے قابل ہوئے تو وہ ہمیں چھوڑ کراسی غربت میں قبرمیں جاسوئیں۔
(محمدجاویدچشتی)

اپنا تبصرہ بھیجیں