نوجوان شاعرہ سارہ لیا قت کی ایک غزل صائمہ کی آواز میں آپ سب کی سماعتوں کی نذر

اے فلک ہم بے بسوں کو آزمانا چھوڑ دے
مٹنے والوں کے لئے کوئی ٹھکانا چھوڑ دے

مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے سارے خیال
اے نگاہ یاس اب آنسو بہانا چھوڑ دے

کٹ گئی شاخ تمنا رہ گیا اجڑا دیار
اے بہار جاں فزا گلشن میں آنا چھوڑ دے

تیری عظمت کے لیے اٹھنا مجھے ہو گا محال
دشمن جاں اب مرے مدفن پہ آنا چھوڑ دے

جب غموں میں مسکرانا ، زندگی کہتے ہیں لوگ
پھر کوئی انسان کیسے مسکرانا چھوڑ دے

دوستوں میں آبرو رہ جائے گی سارہؔ تری
تو سخن والوں کی بزم شب میں جانا چھوڑ دے

اپنا تبصرہ بھیجیں