شاعر عابد معروف مغل کا کلام


غزل

تنہا رات کتاب اور میں
ایک شکستہ خواب اور میں

اک دوجے کی خاطر جاگیں
جان جاں مہتاب اور میں

دھندلے دھندلے منظر سارے
اشکوں کا سیلاب اور میں

ایک لگن میں سرگرداں ہیں
یہ میرے اعصاب اور میں

کھل پائے نہ اک دوجے پر
عشق کے سب حجاب اور میں

شہرت کے محتاج نہیں ہیں
خوشبو چاند گلاب اور میں

نئی کہانی سوچ رہے ہیں
بہتا ایک چناب اور میں

کب ملتے تھے باہم دونوں
دریا کے گرداب اور میں

دنیا تجھ کو سمجھوں کیسے
الجھے تیرے باب اور میں

بکھری سوچیں ایسے یارو
لہریں بیچ تالاب اور میں

رفتہ رفتہ بچھڑے ہیں
میرے سب احباب اور میں

جان بچاؤں کس کی یارو
شہر ہے زیر آب اور میں

میرا دل ہے پیاس کا صحرا
میرے پاس ہے آب اور میں

لازم اور ملزوم ہیں ہم تو
ساقی جام شراب اور میں

روز تماشا ایک نیا ہے
روز نئے گرداب اور میں

الجھے الجھے کیوں رہتے ہی‍ں
ایک دل بے تاب اور میں