روپیہ گرا، توقعات گریں، قدریں گریں، انسان گرا

عمران خان نے دیامیر بھاشا ڈیم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”روپیہ گرا تو مہنگائی ہوئی۔ایسا کر کے عوام پر ظلم کیا گیا“۔ حیرت ہے کہ عمران خان بقول اُنکے پوری طاقت سے وزیراعظم ہیں۔اُن کے پاس اسمبلیوں میں عددی طاقت ہے۔انہیں امریکہ کی آشیر باد بھی حاصل ہے،انھیں سعودی عرب کی حمایت بھی حاصل ہے۔چین بھی ساتھ کھڑا ہے۔ترکی سے بھی دوستانہ ہے۔ انگلستان سے بھی ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں۔فوج کی بھی حمایت حاصل ہے۔ عوام کا بھی ایک بڑا حصہ تبدیلی کے چکر میں انتظار کئے جا رہا ہے کہ کب تبدیلی آتی ہے۔ملک کے تمام ادارے بھی تابع وفرماں ہیں۔اس کے علاوہ عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم میں بڑے بڑے سُورمے شامل کئے ہیں۔غیرملکی اذہان اور غیرملکی شہریت اور تعلیم کے حامل مہنگے ترین معیشت دان قومی خزانے پر لابٹھائے ہیں۔اپوزیشن نری جھلی ہے، منتشر اور کمزور ہے۔ کوئی بھاگا ہوا ہے، کوئی بیمار ہے،کوئی کمزور ہے، کوئی مصلحت پسند ہے اور کسی پر کیس چل رہے ہیں۔ایسی لولی لنگڑی اپوزیشن پہلی بارحکومت کے مدِمقابل ہے۔ بظاہر عدالت سے بھی حکومت کی کوئی پنگابازی نہیں ہے۔ پہلے میڈیا کی طاقت سے ٹکرانا ایک مشکل کام تھا اور میڈیا سے حکومتیں ڈرتی تھیں،لیکن وزیر اعظم نے وزرات عظمی سنبھالتے ہی میڈیا کا ٹنیٹوا دبا دیا،جس قوم، جس گھر اور جس فرد کی معیشت تباہ کُن ہو۔وہ کبھی نہیں پنپ سکتا۔میڈیا تو آخری سانسیں لے رہا ہے۔ چیک اینڈ بیلنس پاکستان سے ختم ہو رہا ہے۔ کسی غلط کام پر آپ انگلی نہیں اٹھاسکتے۔ پہلے معیشت اس لیئے درست تھی اور قرضوں کا حجم کم تھا کہ میڈیا تنقید کرتا تھا۔ سروے رپورٹس شائع کرتا تھا۔قومی خزانے کے ناجائز اسراف پر میڈیا کی نظریں ہوتی تھیں۔صرف ایک خبر یا کالم پر وزیراعظم سہم جاتا تھا کہ اب اس کی گوشمالی ہوگئی،لیکن میڈیا کے اس طرح ہاتھ پاؤں توڑے گئے ہیں،اور اسے مفلوج کیا گیا ہے،کہ خالی پیٹ اور خالی جیب کے ساتھ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں برباد کردی گئی ہیں،حقیقت یہ کہ چت بھی میری پٹ بھی میری کے مصداق حکومت کی چاروں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے،جب کہ انگوٹھے سے حکومت نے کئی اداروں کا ٹینٹوا دبا رکھا ہے،عمران خان خود کو قادر مطلق وزیر اعظم گردانتے ہیں،اور ہر چھوٹے سے چھوٹے کام میں ان کی مرضی ہوتی ہے،پھر عمران خان خود بتائیں کہ روپیہ کیوں گرا؟کس نے روپے کو دھکا دیا؟کس نے روپے کی لاش گرائی؟ آج روپیہ کی قدر کا یہ عالم ہے کہ وہ دنیا کے بدترین ممالک کی کرنسی سے بھی گر چکا ہے۔ بھارت کی کرنسی تو بہت آگے ہے لیکن عراق، افغانستان، بنگلہ دیش اور ایتھوپیا کی کرنسی کے سامنے بھی روپیہ چاروں شانے چت کر گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے با اختیار اور زیرک وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے روپیہ کی یہ ناقدری اور بدترین سوالیہ نشان ہے۔ ایک نہایت مہنگی معاشی ٹیم کے ہوتے ہوئے روپے کا گرنا ایک شرمناک بات ہے۔ روپیہ گرے گا تو مہنگائی ہو گی۔مہنگائی کنٹرول کرنا حکومت کا کام ہے۔اپوزیشن کا کام روپیہ کی قدر بڑھانا نہیں ہے،لیکن عمران خان اسکا الزام بھی نوازشریف اور آصف زرداری کے سر تھوپ دیتے ہیں۔شکر ہے کہ ”کورونا“ کا الزام ان پر نہیں لگادیا۔ عمران خان نے ایک کروڑ نوکریوں کا دعوی کیا تھا،لیکن آج دوکروڑ پاکستانی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں،اور بھوکے مر رہے ہیں،وزرات عظمی سنبھالنے کے بعد بھی اور مختلف مواقعوں پر خصوصاً افتتاحی تقاریب میں لگ بھگ پچاس لاکھ روزگار دینے کے دعوے کرچکے ہیں،کبھی دیامیر بھاشہ ڈیم پر سولہ ہزار نوکریوں کی کبھی تعمیراتی کاموں میں تیس سے چالیس ہزار نوکریاں فراہم کرنے کے اور کبھی دوسرے اداروں میں نوکریاں پیدا کرنے کے کئی خوا ب دکھا چکے ہیں،وہ جب بھی نوکریاں دینے کی بات کرتے ہیں،چند دن کے بعد ہی لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،سوال جوں کا توں موجود ہے،کہ عمران خان جیسے مخلص، بہادر، ذہین اور عقلمند وزیراعظم کے عہد حکومت میں روپیہ کیوں گرا جبکہ آئی ایم ایف نے قرضے اور سود پر رعایتیں برتیں۔لگ بھگ ایک درجن ممالک اور اداروں نے کورونا کے دوران پاکستان کو فنڈ زجاری کئے۔پاکستان کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے اربوں روپیہ کوروناکی مد میں حکومت کو چندہ دیا۔بقول چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال انھوں نے اب تک اربوں روپے کی ریکوری کر ا کے قومی خزانے میں جمع کرایا۔پاکستان کے مخیر حضرات نے کورونا کی امداد میں اربوں روپیہ دیا۔گزشتہ چھ ماہ میں عوام بھوکے پیاسے مرے لیکن انہوں نے تمام بل اور ٹیکس باقاعدگی سے جمع کرائے۔ بقول وزیراعظم کے، انہوں نے پروٹوکول اور تمام اللے تللے ختم کر کے اخراجات کنٹرول کئے ہیں تو اسِ تناسب سے اربوں روپے کی بچت ہوئی ہے۔ کورونا کے دنوں میں تما م سرکاری ملا زمین کی تنخواہوں سے کٹوتیاں کی گیئں۔ تقریباً تمام تعلیمی اداروں نے فنڈز اکٹھے کر کے دئیے جس سے اربوں روپیہ اکٹھا ہوا۔ فوج نے اپنی تنخواہ سے حکومتی فنڈ میں اربوں روپیہ جمع کرایا۔ حد تو یہ ہے کہ عبدالستار ایدھی کے بیٹے نے چندہ سے اکٹھے ہونے والے پیسوں میں سے ڈیڑھ دو کروڑ روپے خود عمران خان کے حوالے کئے۔ پاکستان میں صرف محصول چونگی یعنی ٹال ٹیکس سے ماہانہ اربوں روپیہ جمع ہوتا ہے۔ محض یوٹیلٹی بلز اور انکم ٹیکس و پراپرٹی ٹیکس سے قومی خزانے میں کھربوں روپیہ جاتاہے۔ پانی کی آدھی لٹر بوتل سے لیکر موبائل کارڈز اور گاڑیوں تک پر پاکستانی قوم کھربوں روپیہ ٹیکس دیتی ہے۔ اپنے ہی پیسے نکلواتے ہوئے ٹیکس اور کٹوتی کرانی پڑتی ہے۔ ہماری ہر تنخواہ پر کم از کم تین مرتبہ ٹیکس کاٹا جاتا ہے۔ پاکستان کے قومی خزانے میں ہر ماہ کھربوں روپیہ آتا ہے لیکن آج تک پاکستانی عوام یہ نہیں جان سکے کہ یہ کھربوں روپیہ کہاں جاتا ہے اور کون بد بخت ڈائن یہ پیسہ کھا جاتی ہے۔ اس تناظر میں عمران خان پر واجب ہے کہ وہ قوم کو بتائیں کہ سادگی، تبدیلی، بچت اور ریاست مدینہ میں روپیہ کی قدر کون گرا رہا ہے۔ہر کام تو آپ کی ابرو جنبش سے ہوتا ہے، پاکستان میں ہر شخص نے تبدیلی کی خواہش میں آپکو ووٹ دیاتھا لیکن آپ ذراغور فرمائیے کہ آپ کے عہد حکومت میں صرف روپیہ ہی نہیں گرا، اس قوم کی تمام توقعات گری ہیں۔امیدوں کا خون ہوا ہے۔خواہشوں کو موت آئی ہے۔ بھوک،مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے،انسانی قدریں پامال ہوئی ہیں،ہر شخص نوحہ کناں اور فریادی ہے،عمران خان ”تبدیلی ”تو آپ کی زندگی میں آئی ہے،عوام کے حصے میں تو بربادی آئی ہے،جناب پیسہ ہی نہیں گرا،آپ دور حکومت میں قدریں گری ہیں،توقعات گری ہیں،اور انسان منہ کے بل گرے ہیں،

اپنا تبصرہ بھیجیں