کورونا اور تعلیمی مسائل ۔۔۔!!

sara

پاکستان میں کورونا کی وبا کو اب پانچ ماہ گزر چکے ہیں کرونا کے مریضوں کی تعداد پونے تین لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے اور پانچ ہزار سے زائد لوگ اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جہاں کورونا نے ہماری روزمرہ زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے وہیں صحت کے بعد سب سے زیادہ معیشت اور تعلیمی نظام اس وبا کی زد میں آئے ہیں ۔معیشت کے حوالے سے حکومت آئے دن کوئی نہ کوئی اقدامات کر رہی ہے کبھی کسی ایک سیکٹر کو پیکج دئیے جا رہے ہیں اور کبھی کسی دوسرے بزنس کو سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں تاکہ ملک کی معیشت کا پہیہ بہر حال کسی نہ کسی طور چلتا رہے لیکن دوسری تعلیم کے شعبے کو بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ تیرہ مارچ سے پاکستان بھر میں تمام سکول بند ہیں ، چار ماہ گزر چکے ہیں فی الحال حکومت نے کورونا و با کے حالات بہتر ہونے کی صورت میں پندرہ ستمبر کو سکول کھولنے کا اعلان کیا ہے یعنی ابھی دو ماہ مزید سکول بند رہیں گے۔ ۲۶ فروری کو جب پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا اور ساتھ ہی اس کے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا تو مارچ کے وسط میںپورے پاکستان میں سکول بند کر دئیے گئے فیصلہ چونکہ اچانک کیا گیا اس خدشے سے بچنے کے لئے کہ کہیں یہ وبا مزید پھیل نہ جائے اس سے بچوں کی تعلیم ، سکولوں کی فیسیں ، اساتذہ کی نوکریاں ، آن لائن کلاسیں اور اس حوالے سے بہت سے مسائل سامنے آئے ہیں ۔ سکولوں کی بندش کی وجہ سے طلباء کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے سکولوں نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا اور یوں آن لائن کلاسوں کا آ غاز کیا گیا ۔ آن لائن کلاسوں کے حوالے سے جو مسائل طلباء ، والدین اور اساتذہ کو درپیش ہیں ان میںپہلے تو والدین کے لئے ہر بچے کے لئے الگ موبائل اور لیپ ٹاپ کا انتظام مشکل امرہے اگر وہ کسی طور ہو بھی جائے تو بہت سے ایسے دور دراز علاقے ہیں جہاں نیٹ کی سہولت نہیں ہے اور شہروں میں اگر یہ سہولت ہے بھی تو کبھی نیٹ کی سپیڈ کے مسائل ہیں تو کہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ نے بچوں کے لئے آن لائن پڑھنا مشکل بنا دیا ہے ۔ جب کہ دوسری طرف ٹیکنالوجی کو صیح طورپر استعمال کرنا بھی اساتذہ اورطلباء دونوں کے لئے ایک بڑ ا چیلنج بن کے سامنے آ رہا ہے ۔چھوٹے بچوں سے لے کے پروفیشنل تعلیم میڈیکل انجینئرنگ کے طلباء تک سب کا یہ کہنا ہے کہ آن لائن کلاسیس میں لیکچرز کو سمجھنا پھر اساتذہ کے ساتھ سوال و جواب وغیرہ کافی مشکل ہے ، نہ والدین مطمئن نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی طلباء اور اگر سرکاری سکولوں اور کالجوں کی طرف نظر دوڑائی جائے تو وہاں تو آن لائن کلاسیس کے حوالے سے اور ہی طرح کے والدین اور اساتذہ کے مسائل اور مشکلات ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی ہے ۔ دوسری طرف بات اگر سکولوں کی فیسوں کے حوالے سے کی جائے تو یہ والدین کے لئے الگ ایک بہت بڑی پریشانی ہے ۔ شروع کے دو ماہ میں جب بچے سکول نہیں جا رہے تھے اور سکولوں سے ویسے ہی فیسوں کے بھاری بھر کم فیس چالان والدین کو موصول ہو رہے تھے تو ان کا یہ مطالبہ تھا کہ سکول اپنے بنیادی فکس اخراجات کے لحاظ سے ہی صرف فیس لیں یا کم از کم پچاس فی صد رعایت دیں جس کی کوئی شنوائی نہ ہوئی اور سپریم کورٹ نے اس حوالے سے ایک فیصلہ جاری کیا جس میں سکولوں کوفیس کی مدمیں بیس فی صدکمی کرنے کا پابند کیا گیا ۔ اس میں بھی سکولوں کی انتظامیہ نے صرف ٹیوشن فیس کی مد میںبیس فی صد رعایت کی باقی دیگر اخراجات اسی طرح رہے جس سے والدین کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں ملا اور کچھ پرائیوٹ سکولوں کے حوالے سے تو یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں انہوں نے نئے ایڈمیشن میں لوگوں کوفل ایڈمیشن اور سیکیورٹی معاف کرنے کا اعلان کیا اور جب والدین نے ایڈمیشن کروا لئے تو انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور اب والدین کو پوری فیسیں ادا کر نے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ تیسرا اہم مسئلہ ان اساتذہ کا ہے جن کو سکول بند ہونے کی وجہ سے نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے اور ان کو اب بے روزگاری کا سامنا ہے ۔حکومت سے پرزور اپیل ہے کہ تعلیم کے حوالے سے والدین ، طلباء اور اساتذہ کے جتنے مسائل ہیں ان پہ فوری توجہ دی جائے اور ان کے حل کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔ قائد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد پہلی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’اس ریاست کے مستقبل کا انحصار بہت حد تک اس بات پر ہو گا کہ ہم اپنے بچوں کو کیسی تعلیم دیتے ہیں‘‘۔ تعلیمی شعبے کے حوالے سے خوش قسمتی دیکھیئے کہ جب سے پاکستان بنا ہے ہرپارٹی نے تعلیم کو اپنے منشور کا حصہ بنایا اور تعلیمی میعار کو بہتر سے بہترین بنانے کے لئے سیاسی نعرے کے طور پہ بھی استعمال کیا ساتھ ہی بد قسمتی کہیے کہ ہر حکومتی بجٹ میں سب سے زیادہ نا انصافی تعلیم کے ساتھ ہوئی ، کوئی بھی حکومتی پالیسی نہ تو تعلیمی میعار کو بہتر بنا سکی اور نہ ہی کوئی بہترین نظام تعلیم مرتب کر سکی ، پچھلے تریسٹھ برس میں اب تک ملک میں دس تعلیمی پالیسیوں کا اجراء ہو چکا ہے اس طرح یہ شعبہ ہمیشہ بد نظمی و انتشار کا شکا ر رہا اور اب کورونا کے بعد تو حالات مزیدخراب ہو گئے ہیں ۔ جس طرح صحت اور معیشت کوہنگامی بنیادوں پہ دیکھا جا رہا ہے اسی طرح ملک میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے کی بھی فوری اور اشد ضرورت ہے تاکہ کورونا کے دوران طلباء کی پڑھائی ، فیسوں کے معاملات اور اساتذہ کو پیش آنے والی مشکلات کو ہنگامی بنیادوں پہ حل کیا جا سکے اور قومی سطح پر اس طرح کے اقدامات کئے جا ئیں جو کہ والدین ، طلباء اور اساتذہ سب کو مطمئن کر سکیں ۔ ایک مفکر کوان زو کا قول ہے۔ ’’اگر آپ ایک سال کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو چاول کی فصل بوئیے، اگر آپ دس سال کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو درخت لگائیے اور اگر آپ سو سال کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو انسانوں کو تعلیم دیجیئے‘‘۔تعلیم کی اہمیت کو سمجھیں اور خدارا مسائل کا حل تلاش کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں