پولیس تھانہ کلرسیداں کا سب انسپکٹر فرعون بن گیا،مدعی سے ملکر ملزمان کی خاتون اور بوڑھے باپ پر تشددکیا، لونی جسیال کے رہائشی کا الزام


کلرسیداں: پولیس تھانہ کلرسیداں کے سب انسپکٹر افضال احمد نے علی الصبح میرے گھر پر چھا پہ مار کر میرے بوڑھے مریض باپ کو دھکے دے کر پولیس کی گاڑی میں ڈالا،اور جب میری بھابی نے اس حوالے سے پولیس انسپکٹر سے دریافت کیا تو اس نے میری بھابی کو بھی کو دھکے دئیے،اور تھپڑ مارا،اور میرے باپ کو گھسیٹتے ہوئے تھا نے لے جا کر بند کردیا،کلرسیداں کے نواحی علاقے لونی جسیال کے رہائشی آفتا ب حسین ولد عابد حسین نے میڈیا کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرے لونی جسیال کا رہائشی ہوں،ہمارے پڑوسی واجد حسین نے اپنے گھر کا گٹر ہمارے گھر سے ملحقہ جگہ پر بنایا ہوا ہے جس کی لیکج کی وجہ سے میرے مکان کی دیواریں پھٹ گئی ہیں،ہم نے واجد حسین کو کہاکہ اس کا کوئی بندوبست کرو،ورنہ میرا مکان گر جائے گا،لیکن واجد حسین نے کہا کر لو جو کرنا ہے،اور ہمیں دھمکیاں دیں،ہم نے اس حوالے سے ٹی ایم او کلرسیداں میں درخواست دی،لیکن ہماری کوئی شنوائی نہ ہوئی،پھر ہم نے تھانہ کلرسیداں میں درخواست دی جو سب انسپکٹر افضال احمد کو مارک ہوئی،جس نے ہماری درخواست پر عمل کرنے کی بجائے اُلٹا ہمیں تنگ کرنا شروع کردیا،اور آئے دن ہمارے گھر پولیس چھاپے پڑنے شروع ہوگئے،ہمارے گھر 5جون 2020کو مہمان آئے ہوئے تھے،جن کو پولیس نے ناحق چھاپہ مار کر گرفتار کیا اور تھانے لے جا کر تشدد کرکے مضروب کردیا،اصل وجہ یہ ہے کہ میرے پڑوسی واجد حسین کی ہمشیرہ ٹریفک پولیس میں ملازم ہے اور اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے ہمیں پولیس کے ہاتھوں تنگ کرواتی ہے،آئے دن پولیس والے ہمارے گھر چھاپہ مارتی ہے اور ہمیں تنگ کرتی ہے،ہماری درخواست پر عمل ہونے کی بجائے اُلٹا ہم پر ایف آئی آر کاٹ دی گئی،اور ہمارے گھر کی دریوار کو گرا دیا گیا،گزشتہ روز پولیس نے صبح سویرے ہمارے گھرچھاپہ ما ر کرمیرے والد کو گھسیٹتے ہوئے تھانے لے گئے،اور میرے بھائی اعجاز حسین ولد عابد حسین کی بیوی کے استسفار پر سب انسپکٹرافضال احمدنے اس کو تھپڑ مارااود ھکے دئیے،اپنی گاڑی گھر کے اندر جانے کے لئے ہم نے اپنی دیوار خود توڑی ہے،اور رات کو ہمارے گھر واجد حسین کے گھر کی طرف سے پتھراؤ کیا جاتا ہے اور ہوائی فائرنگ کرکے ہمارے اہل خانہ کو ڈرایا جاتا ہے،پولیس تھانہ کلرسیداں کا سب انسپکٹر افضال احمد مکمل طور پر اپنے محکمے کی پولیس ملازم سے ملا ہوا ہے اور ہم نے تھانے جب شکایت کی تو اس نے ہمیں کہا کہ یہ تھانہ میرا ہے اور میں پولیس ملازم کاساتھ دوں گا،ہم غریب لوگ ہیں،ہماری کہیں بھی شنوائی نہیں ہورہی،ہم میڈیا کی وساطت سے وزیر اعلی پنجاب اورچیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے اور ہمیں سب انسپکٹرافضال احمد کی زیادتیوں سے بچایا جائے،اس حوالے سے جب میڈیا نے سب انسپکٹر افضال احمد کا موقف لینے کے لئے ان سے رابطہ کیا تو متعدد بار کال کرنے کے باوجودبھی اُن سے ہماری بات نہ ہوسکی،

اپنا تبصرہ بھیجیں