کیاکچھ بدلاہے؟

کرسی کبھی کسی کی وفادار نہیں رہی اقتدار آنی جانی چیز ہے مگر کچھ لوگ اس نشے میں اتنے اندھے،بہرے اور بھلکڑ ہوجاتے ہیں کہ انہیں اپنے کہے الفاظ تک یاد نہیں رہتے،2018کے انتخابات کو عوام اپنی امیدوں کی کرن اور پاکستان میں تبدیلی کی نوید گردان رہے تھے مگر انہیں اس بات کا کیا علم تھا کہ انہیں ایک بار پھر اسی چکی میں پسنا ہوگا جس میں وہ گزشتہ 70سال سے پس رہے ہیں۔ اقتدار کی حوس بڑے بڑوں کے ہوش ٹھکانے لگا دیتی ہے اور ان سے ایسے ایسے کام کروا دیتی ہے جو ان کے وہم گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ ذولفقار علی بھٹو 1977کے الیکشن میں کامیاب ہوئے قومی اسمبلی کی کل نشتیں 200تھی انہوں نے 155حاصل کر لیں اس وقت کی اپوزیشن نے بمشکل 36سیٹیں لیں اپوزیشن نے رزلٹ ماننے سے انکار کر دیا او ر نہ کہ دھاندلی کا الزام لگا یا بلکہ پور ے ملک میں بھٹو کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا جس سے ذوالفقار علی بھٹو پر پریشر بڑ ھ گیا اس ضمن میں انہو ں نے 12مارچ کو عوام سے خطاب کیا اور خطاب کے دوران انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کمزور ہو سکتا ہے مگر یہ کرسی نہیں ان کی یہی بات ان کو لے ڈو بی انہوں نے اپنی ذات سے زیادہ اپنی کرسی پر اعتماد کیا اور کرسیاں کبھی کسی کی وفادار نہیں ہوتیں اس وقت ان کے چہرے پر غرو راور لہجے میں تکبر تھا جو رب کریم کو پسند نہیں اس کے بعد بھٹو کی حکومت کمزور ہوتی گئی اور پانچ جولائی 1977کو فوج آگئی اور فوج نے ذولفقار علی بھٹو کو کرسی سمیت اٹھا کر باہر پھینک دیا اور اس کے بعد ذولفقار علی بھٹو کو مضبوط کرسی نصیب نہ ہوسکی اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے آجکل سننے میں آرہا ہے کہ عمران خا ن کے علاوہ عوام کے پاس کوئی اور چوائس نہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی نے یہ کہا کہ میں ناگریز ہوں وہ نہیں رہا کائنات میں اللہ کے علاوہ ہر شخص کا آپشن اور چوائس موجودہوتی ہے اللہ کریم نبیو ں کے بعد بھی نئے نبیوں کی چوائس اورا ٓپشن دیتا رہا ہے ہم کس کھیت کی مولی ہیں اپنے آپ کو ناگریز کہنے والے پاکستا ن کی 72سالہ تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں عمران خا ن سے زیادہ طاقتور اور ناگزیر لوگوں سے بھری پڑی ہے اور لوگ ان کی قبروں سے بھی ناواقف ہیں جھوٹے وعدے بڑے بڑے دعوے کر کے عوام کو بیوقوف بنا کر خفیہ قووتوں کے سہارے حکومت کرنے والے آج خود کو ناگریز سمجھ رہے دوسری جانب اگر کارکردگی کی بات کی جائے تو قوم یوتھ اور ان کے رہنماؤ ں کے پاس کہنے کو کچھ نہیں جھوٹی انا ء اور جھوٹ پر شر مندہ ہونے کے بجائے میں نہ مانوں کی رٹ لگادیتے ہیں گزشتہ ادوار کے مقابلے میں پاکستا ن کی حالت بہتر ہونے کے بجائے بد سے بدتر دکھائی دے رہی ہے مہنگائی آسمانو ں کو چھو رہی ہے قرضو ں، بے روزگاری میں بے انتہا اضافہ بجٹ میں ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنا عوام دشمنی اور نالائقی کی واضح مثالیں آپ کے سامنے ہیں سبزی فروٹ اور تمام اشیاء خردنوش کی قیمتیں بڑھ گئیں ہیں کرپشن کے خلاف کاروائی کرنے کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے ہیں گورنر ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹیز میں تبدیل،تھانہ کچہری کی سیاست سے باہر نکل کر کام کرنے کے دعوے داروں کی آجکل ہر صبح تھانہ اور کچہری میں ہی ہوتی ہے سب کچھ ویسے ہی چل رہا ہے جیسے پہلے تھا متعدد حکومتی وزراء کرپشن میں بے نقاب ہوئے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی البتہ جس کسی نے کم کرپشن کی اسے پہلے سے بہتر وزارت میں تبدیل کر دیا گیا کچھ نہیں بدلا صرف چہرے بدلے ہیں ملک بدترین معاشی بدھالی کا شکار ہے پی آئی اے میں جعلی پائلٹس کی بھرتیوں متعلق پاکستان کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی غیر ذمہ دارانہ بیانات ملکی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں حکومتی وزراؤں کو شاہد ابھی تک یقین ہی نہیں ہورہا کہ وہ حکومت میں ہیں ان کے رویوں اور تقاریر سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک اپوزیشن ہی میں ہیں کنٹینر تقریر اور پارلیمنٹ کی پالیسی بیان میں بہت فرق ہوتا ہے تبدیلی سوشل میڈیا تک تو نظر آرہی ہے لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو کچھ بھی نہیں بدلا کرپشن، اقرباء پروری، سفارش تھانہ کچہری کی سیاست عروج پر پہنچ چکی ہے چمچوں کڑچھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ابھی موقع اور وقت ہے عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ آئندہ انتخابات میں انہیں عوام کی عدالت میں پھر پیش ہونا ہوگا انتخابات کا سب سے بڑا سبق یہ کہ عوام اب طفل تسلیوں پر ٹرخنے والے نہیں عوام یہ سمجھ گئی ہے کے کسے ہیرو بنانا ہے اور کسے زیرو آپ کے تمام وعدے عوام نے اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر رکھے ہوئے ہیں کامیابی و کامرانی کی کسوٹی کارکردگی بن چکی ہے آئندہ کے انتخابات میں ووٹ لینے کا پیمانہ بھی یہی ہو گا 2018والا کلیہ ہر بار نہیں چلتا عوام کے پاس آپ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں والی کی غلط فہمی میں نہ رہیے گا وگرنہ آپ بھی ماضی کا قصہ بن جائیں گے جیسے آپ سے پہلے والے بنے باتوں اور وعدوں کا وقت گزر گیا اب عملی طور پر کچھ ایسا کریں جس سے محسوس ہو کہ کچھ بدلا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں