قبضہ مافیا کی چیرہ دستیاں

masaboor malik


میرا قلم سے رشتہ دو عشروں پر مشتمل ہے،جو زندگی کی ڈور ٹوٹنے تک قائم رہے گا،آغاز جوانی میں جب جسم وجاں میں نئی اُمنگیں جنم لیتی ہیں،جب رگ وپے پہ مستی چھانا شروع ہوتی ہے،جب آتش جوا ں اور لہو گرم ہوتا ہے،جب بہار زندگی اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے،اور کچھ کرگزرنے کو من چاہتا ہے،اُس وقت میرا انتخاب کچھ اور تھا،کچھ دوستوں کی ترغیب کہہ لیں اور کچھ قریبی عزیزوں کی ہمت افزائی کہ مجھے خار زار صحافت میں قدم رکھنا پڑا،ابتداء میں چند سال تو اس میدان کے اسرار ورموز سیکھنے میں گزر گئے،تعلیم کا رکا ہوا سلسلہ جاری ہوا،صحافت میں ڈگری لینے کے بعد کالم نگاری شروع کی جو تاحال جاری ہے،اس دورا ن نہ جانے کتنے کالم اور خبریں لکھ کر صفحات سیاہ کئے،یاد نہیں،اس دوران بہت سے ایسے موڑ بھی آئے جب وقتی طور پر اس میدان سے کنارہ کشی اختیار کرنا پڑی،میری عادت نہیں،خودنمائی کرنا،کیونکہ میرے خیال سے کسی بھی صحافی کو لکھتے وقت ذاتی مفادات اور اپنے نظریات سے بالاتر ہوکر لکھنا چاہیے،جس کا کم ازکم مجھ بہت دفعہ سامنا کرناپڑا،جب اس مقدس پیشے اور قلم کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لئے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ سب رپورٹ کرنا پڑا جو میرے نظریات سے متصادم تھا،سچ لکھتے ہوئے سب سے پہلے اپنوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ تا ہے،اور پاکستان جیسے معاشرے میں تو ویسے بھی سچ لوگوں اور سرکار دربار کو ہضم نہیں ہوتا،مجھ پر آج سے چند سال پہلے بجلی کی غیر اعلانیہ بندش پر واپڈا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کے ساتھ کھڑاہوکر ان کا ساتھ دینے پر16 ایم پی او کا ایک مقدمہ قائم کیا گیا،جس کا ذکر اُس وقت کے اخبارت میں میرے کالم اور خبروں کی شکل میں موجود ہے،اب گزشتہ دنوں 19جولائی 2020ایک بار پھر مجھے ذہنی اورجسمانی کوفت اور تکلیف سے گزرنا پڑا،جس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ راقم کی ایک قریبی عزیزہ کی وراثتی زمین کا ایک مقدمہ کئی سالوں سے تحصیلدار کلرسیداں کی عدالت میں زیر سماعت تھا جس کا فیصلہ9جولائی جو میری عزیزکے حق میں ہوگیا اور مذکورہ رقبہ دونوں فریقین کے درمیان الگ الگ خسرات میں تقسیم کردیا گیا،لیکن دوسرا فریق جو کہ میری عزیزہ کو اُن کی وراثتی زمین دینے سے انکاری ہے،اور عدالتی فیصلہ ماننے کی بجائے اُس شخص نے ہماری عزیزہ کی زمین پر رات کی تاریکی میں ناجائز قبضہ کرکے چاردیواری بنا لی،اس پر بروز اتوار19جولائی 2020کو جب میری عزیزہ اپنی زمین دیکھنے گئی تو وہاں تاحال قبضہ مافیا کی جانب سے تعمیرات کی جارہی تھیں،جس پر اُس ضعیف العمر خاتون نے احتجاج کیا تو قبضہ مافیا کے سرغنہ کی جانب سے اُن کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اُن کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے گئے،یہ سارا معاملہ چونکہ ہمارے گھر کے قریب ہورہا تھا لہذاشور کی آواز سن کر جب میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچا تو وہاں موجود قبضہ مافیا کے سرغنہ اور اسکے ساتھیوں نے مجھ پر بھی حملہ کردیا،وہ لوگ آتشیش اسلحہ سے لیس تھے،اور راقم کو پستول کے بٹ،آہنی مکے اور ڈنڈوں سے بری طرح پیٹا گیا،بمشکل تما م ہم اپنی جان بچا کر قریبی تھانہ کلرسیداں پہنچے،جہاں پولیس نے روایتی انداز میں ہماری درخواست پر مقدمہ درج کرنے کے دوسرے فریق کو بھی تھانہ بلا لیا،جہاں دوبارہ راقم پر پولیس کے تھایندار کی موجودگی میں حملہ ہوا،اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی،ایک پیشہ ور صحافی کالم نگار اور پریس کلب کا رکن ہونے کے باوجود،نیز پریس کلب کے اراکین کے ایس ایچ او پر دباؤ ڈالنے کے ایس ایچ او نے مجھے صاف انکار کردیا کہ میں تمھاری ایف آئی آر درج نہیں کروں گا۔مجبورا ً مجھے آئی جی پنجا ب کی ہیلپ لائن لاہور شکایت درج کروانا پڑی،جس پر ایک پھسپھسی ایف آئی آر درج کرکے پولیس نے اپنی جان چھڑا لی،تاحال پولیس نے کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا،اورملزمان سرعام دندناتے پھر رہے ہیں،راقم کو ملزمان کی جانب سے جان سے مارنے اور اپنی عزیزہ کے مقدمے کی پیروی کرنے سے متعدد بار وکا گیا،اس سے پہلے بھی اس قبضہ مافیا کی جانب سے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں،اور اب بھی اس پرتشدد سانحے کے بعد پولیس کی روایتی سستی کی وجہ سے چونکہ ملزمان آزاد ہیں،لہذا مجھے ایک بار پھر دھمکی دی گئی ہے کہ تمہیں اب زندہ نہیں چھوڑیں گے،مجھے جان کی پروا نہیں،مسلمان ہو ں،جان اللہ کی امانت ہے،ایک نہ ایک دن یہ امانت اللہ کے حوالے کرنی ہے،لیکن سوال اس بات کا پیدا ہوتا ہے کہ راقم ایک کالم نگار اور پیشہ ور صحافی ہوکر اگر خود کے لئے کچھ نہیں کرسکا تو ذرا سوچئے اس ملک میں ایک عام آدمی کا کیا حشر ہوتا ہوگا،جب وہ اس قسم کے حادثے کا شکار ہو کر تھانے جاتا ہے،مقام حیرت ہے کہ ڈی ایس پی کہوٹہ نے بھی مجھے ٹال دیا،کیا کسی کو سرعام گن پوائنٹ پر دھمکی دینے،بری طرح مارنے،عزت ماب خواتین کو تھپڑ مارنے،ان کو عریاں کرنے پر صرف دفعہ 148,149,اور354ت پ کی نرم دفعات پر مشتمل ایف آئی آر ہی بنتی ہے،کسی کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی 447خواتین کو برہنہ کرنے کی 354Aاور گن پوائنٹ پر دھمکی دینے کی دفعہ 506/2کیوں نہیں لگائی گئی،پولیس کی کون سی مجبوری تھی جو اس نے ہلکی دفعات پر مشتمل ایف آئی آر درج کی؟جبکہ 19جولائی سے 22جولائی کی شام تک ایس ایچ او کی موقف یہ تھا کہ،کسی کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی 447خواتین کو برہنہ کرنے کی 354Aاور گن پوائنٹ پر دھمکی دینے کی دفعہ 506/2کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ ڈی ایس پی کی منظوری سے ہوتا ہے،میرے پاس اختیار نہیں،لیکن جب منظوری کی باری آئی تو جائے متعلقہ دفعات لگانے کے ہلکی اور قابل ضمانت دفعات لگا کر محض طفل تسلی دی گئی،اب صورت حال یہ ہے کہ قبضہ مافیا دندنا تا پھر رہا ہے،ایک صحافی کے کیا وسائل ہوتے ہیں جو وہ پولیس کی مٹھی گرم کرے؟جو خود نان شبینہ کے محتاج ہیں،جن کی اپنی روزی کی کوئی گارنٹی نہیں،وہ بیچارے کیا اس قابل ہیں کہ پولیس اور قبضہ مافیا سے لڑیں،ہمارا ہتھیار تو قلم ہے،ہمارے پاس نہ توپ ہے،نہ تلوار،نہ ٹینک نہ بندوق،ہمارے پاس صرف قلم ہے،جس پر ہمارازور چلتا ہے،لیکن فی زمانہ لگتا تو کچھ یوں ہے کہ دوسروں کے حق اور انصاف کے لئے لڑنے اور قلم قبیلہ سے تعلق رکھنے والے کو خود اپنے لئے انصاف کے حصول کے لئے ابھی نہ جانے مزید کتنے کشٹ اُٹھانے پڑیں گے،حد تو یہ ہے کہ میری کردار کشی کے لئے سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی گئی،اور مجھے جھوٹا ثابت کرنے کے لئے نہایت بیہودہ انداز اختیار کیا گیا،جس کی ہر ذی شعور نے مذمت کی،یہاں میں اپنے اُ ن تمام صحافی بھائیوں اور بہنوں کا بہت شکرگزار ہوں جنھوں نے ملک اور بیرون ملک سے میرے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،اور میری ڈھارس بندھائی،میرے ساتھ تھانے گئے یا ذاتی طور پر میری خیریت دریافت کرنے میرے غریب خانے تشریف لائے،میرا مطالبہ صرف انصاف ہے،جس کے لئے آج مجھ ذاتی معاملے پر کالم لکھنا پڑا،یہ صرف میرا معاملہ نہیں،اس ملک اور اس معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلے قبضہ مافیا کے خلاف ایک جنگ ہے،جو ناجائز طور پر لوگوں کی زمین وجائیداد پر قبضہ کرکے مالک بن بیٹھتا ہے اور لوگوں کو نسلوں تک انصاف نہیں ملتا،ریاست کو اس بارے ایسے قوانین بنانے چاہییں کہ لوگوں کو فوری اور سستا انصاف دیا جاسکے، آج ایک صحافی اپنے اُوپر بیتی ظلم کی داستاں پر لب کشاں ہے کل یہ وقت کسی پر بھی آسکتا ہے،ہمیں ملکر اس پر سوچنا ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں