کلرسیداں کے تاجروں نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہوا میں اُڑا دیا،شہراور گردونواح کی متعدد دکانیں کھلی رہیں،انتظامیہ بند کروانے میں ناکام،سروے رپورٹ


کلرسیداں (عامر چودھری سے) پنجاب بھر کے دوسرے شہروں کی طرح کلرسیداں اور گردونواح کے تاجروں نے بھی پنجاب حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے کاروبار کش قرار دیا ہے،عیدا لاضحی کے موقع پر کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے حکومت پنجا ب کی جانب سے گزشتہ روز صوبے بھر میں 27جولائی سوموار رات 12بجے سے بدھ5اگست تک لاک ڈاؤن کے اعلان کو کلرسیداں اور گردونواح کے تاجروں نے ہوا میں اُڑا دیا،صبح سے شام گئے تک بازار کھلے رہے اور تاہم اکادکا دکانیں بند رہیں،اس حوالے سے حکومتی حکم پر عمل درآمد کروانے کے لئے جب چیف آفیسر کلرسیداں محمد خالد رشید کمبوہ لاک ڈاؤن آفیسر عمر صغیر کے ہمراہ بازار بند کروانے کے لئے کلرسیداں بازار پہنچے تو تاجروں نے اُن کے خلاف کلرسیداں میں چوک میں احتجاجی مظاہرہ شروع کردیا،کلرسیداں کے کاروباری حلقوں نے اجتماعی طور پر پنجاب حکومت کے 9 دن کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مین چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا، اور مذہبی تہوار کے موقع پر لاک ڈاون کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا،تاجروں نے سروے رپورٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی 2 دن کا لاک ڈاؤن کیا جارہا ہے کلرسیداں اور گردونواح میں تاجر جمعہ کو بھی چھٹی کرتے ہیں، اس طرح مہینے میں 12 دن دکانیں بند رہتی ہیں،انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، غریب آدمی فاقوں پر مجبور ہے، اور جو لوگ لاک ڈاؤن کی حمایت کر رہے ہیں ان میں اکثریت تنخواہ دار طبقہ ہیں یا ان لوگوں کیہے، جو کاروباری طبقے سے وابستہ نہیں،لہذا کاروباری طبقے کو یہ لاک ڈاؤن منظور نہیں،ہم کسی صورت دکانیں بند نہیں کریں گئے،

اپنا تبصرہ بھیجیں