آزادی ٔ کشمیر کیلئے مجید نظامی کی تڑپ

sara

پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے اپنے پرائے دشمنوں کی سازشوں میں گھرا رہا ہے اور آج بھی یہ درباری سازشیں کہیں نہ کہیں ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ انہی سازشوں کی بدولت 1971گمیں پاکستان دو لخت ہو گیا تھا اور جو بقیہ پاکستا ن آج قائم ہے وہ بھی ہر وقت دشمن کی آنکھوں میں کھٹکتا رہتا ہے ۔ ہم نے جب سے ہو ش سنبھالا ہے یہی اپنے آس پاس بازگشت سنائی دی ہے کہ میرا وطن نازک دور سے گزر رہا ہے اتنی مشکلوں ، تکلیفوں اور سازشوں کے باوجود اگر آج بھی یہ ملک ، اس کا وجود قائم ہے تو اس کی وجہ اللہ تعالی کی ہم پہ خاص کرم نوازی ہے اور ایسے لوگوںکا وجود جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں اس ملک کے نظریے ، اس کی اساس کا محافظ بن کے گزار دیں انہی شخصیات میں ایک بڑا نام مجید نظامی مرحوم کا ہے ۔ مجید نظامی مرحوم صحافت کا ایک ایسا نام جن کے بغیر پاکستانی صحافت کی تاریخ ادھوری ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے انسٹھ برس صحافت کی خدمت میں گزارے اور آپ کا شمار ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے طویل ترین وقت اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے گزارا۔ آپ نے نوائے وقت اخبار کی باگ دوڑ اپنے بھائی حمید نظامی مرحوم کی وفات کے بعد ۱۹۶۲ میں سنبھالی ۔ صحافت کو ہمیشہ ایک مشن کے طور پہ لے کے چلے اور ہمیشہ ایک نڈر صحافی اور محب وطن پاکستانی کے طور پر پہچانے گئے ۔ آپکی انہی خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومت پاکستان نے آپ کو تین اعلی سطح کے ایوارڈز سے نوازا جن میں نشان امتیاز ، ستارہ امتیاز اور ستارہ پاکستان شامل ہیں ۔ مجیدنظامی مرحوم کو کشمیر سے خاص انسیت تھی آپ نے اپنی ساری زندگی نہ صرف کشمیر کی آزادی کی جدوجہد اوراس مسئلے کو دنیا بھر میں اجاگرکرنے میں گزار دی بلکہ نوائے وقت اخبار میں ہمیشہ کشمیرکی آزادی کی تحریک کو نمایاں طور پر جگہ دیتے رہے اور بھارت کا مکروہ چہرہ ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر پہ ڈھا ئے جانے والے بھارتی مظالم بھی ساری دنیا کو دکھاتے رہے ۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ آپ اگر آج زندہ ہوتے اور کشمیر کی موجودہ حالت دیکھ کر نجانے آپ کے دل پہ کیا گزرتی ۔ آپ کشمیر کے معاملے میں اس قدر حساس تھے کہ ایک دفعہ نظریہ پاکستان فاونڈیشن کے ایک اجتماع میں آپ کشمیر کے ذکر پہ اس قدر جذباتی ہو گئے کہ فرمانے لگے کہ انہیں ایک ایٹمی میزائل کے ساتھ باندھ کر جموں کی بھارتی فوجی چھائونی پر داغ دیا جائے ۔ اسی طرح ایک وقت آیا جب مشرف دور میں آزادی کشمیرکی حمایت کو دہشت گردی قرار دیدیا گیا اس وقت آپ نے مشرف کے منہ پہ کہا کہ اگر آپ نے کشمیر کاز سے غداری کی تو آپ کرسی صدارت کے منصب پہ زیادہ عرصہ نہیں بیٹھے رہ سکیں گے ۔ مجید نظامی صاحب کی کشمیر سے جذباتی وابستگی اس حد تک زیادہ تھی کہ آپ اس مسئلے کو حل کروانے کیلئے آخری حد تک جانے کو تیار تھے ۔ ایک جگہ یہ بھی کہا کہ وہ آزادی کشمیر کے حامی ہیں اگر کوئی انہیں دہشت گرد سمجھتا ہے تو بے شک انہیں باقی دہشت گردوں کی طرح پکڑ کر گوانتامانوبے کے پنجرے میں بند کر دیا جائے ۔ آج اگر مجید نظامی مرحوم زندہ ہوتے تویقینا کشمیر کے حوالے سے بھارتی اقدامات پر صرف مذمت کر کے خاموشی سے نہ بیٹھے رہتے ۔ مجید نظامی مرحوم کی ساری زندگی جدو جہد سے عبارت تھی آپ نوائے وقت اخبار کے علاوہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیرمین کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ اس ٹرسٹ کے قیام کا مقصد پاکستان کی نظریاتی اساس کی حفاظت کرنا تھا اور ساتھ ہی پاکستان کے قیام کی جدو جہد میں حصہ لینے والے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنا اور ان کی خدمات کو سراہنا تھا۔ماضی کے لوگوں کو یاد رکھنے کے علاوہ پاکستان کی نئی نوجوان نسل کو قیام پاکستان کے مقاصد سے اگاہ کرنا اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا بھی اس ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد میں شامل ہے ۔ ان کا یہ مشن انکی وفات کے بعد آج بھی جاری ہے ۔ اللہ تعالی جناب مرحوم مجید نظامی صاحب کی مغفرت فرمائے اور انشاء اللہ وہ وقت بھی جلد آئے جب کشمیر کے لوگوں کو آزادی کا سانس نصیب ہو اور پاکستان ایک ایسا مضبوط ملک بن کے دنیا کے سامنے آئے جیسا پاکستان آپ دیکھنا چاہتے تھے ۔ مجید نظامی صاحب پاکستانیت کا جو بیچ نئی نوجوان نسل میں بو کے گئے ہیں آنے والی نسلیں بھی انشاء اللہ اس سے فائدہ اٹھائیں گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں