استعفٰے کی اصل کہانی !

پرائم منسٹر عمران خان کے سپیشل ایڈوائزر ڈاکٹر ظفر مرزا اور تانیہ ایدروس اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں دونوں اپنے مستعفی ہونے کی وجہ مفاد عامہ اور ان پر ہونے والی بے جا تنقید کو قرار دے رہے ہیں ڈاکٹر ظفر مرزا کاکہنا ہے کہ ان پر دباءو بہت زیادہ ہے اورا نہیں آزادانہ کام نہیں کرنے دیا جارہا جبکہ تانیہ ایدروس کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی دوہری شہریت کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے لہذا وہ اس عہدے پر مزید کام نہیں کرسکتی یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر مشیروں نے استعفے دیے جبکہ اندر کی بات جو اب سامنے آرہی ہے وہ یہ کہ ان دونوں مشیروں سے استفعے لیے گئے ۔ تانیہ ایدروس صاحبہ کو جہانگیر ترین کے ساتھ جان پہچان کی قیمت چکانی پڑی ہے اور انہیں جہانگیر ترین ریفرنس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور ان کی کمپنی کو conflict of intrestبتا کر ا ن سے استعفی لیا گیا جب کہ ذراءع کے مطابق انہیں صرف اور صرف جہانگیر ترین کے قریب ہونے کی سزا دی گئی ہے ۔ اسی طرح ڈاکٹر ظفر مرزا جو کہ وزیر اعظم پاکستان کے ;77;ost ;70;avorite مشیر کے طور پر جانے جاتے تھے ان سے ایک انتظامی غلطی کروائی گئی اورا نڈیا کی ایک فارما سوٹیکل کمپنی سے ادویات امپورٹ کی گئیں جس کی بنا پر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا انڈین ادویات کی امپورٹ کے متعلق تحقیقات شہزاد اکبر کررہے ہیں شہزاد اکبر نے اس سارے معاملے میں ڈاکٹر ظفر مرزا کو قصور وار ٹھہرایا ہے بہر حال اس سارے معاملے کی انکوائری کے لیے نیب کی خدمات لینے کی زحمت نہیں کی گئی اگر نیب کو اس معاملے میں ;73;nvolveکیا جاتا تو بہت سے پردہ نشینوں کے نام بھی منظر عام پر آجاتے جس سے حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاگزشتہ ادوار میں ایسے معاملات پر محترم عمران خان صاحب حکومتوں کو آڑھے ہاتھوں لیا کرتے اور انہیں شدیدتنقید کا نشانہ بھی بنایا کرتے اور اس طرح کے انتظامی فیصلوں کو بد عنوانی سے تعبیر کرتے رہے ہیں یہاں پر وزیر اعظم پاکستان پر اس بات کا سوال کرنا چاہوں گا انڈین ادویات کی امپورٹ میں کس کس نے ہاتھ دھوئے ہیں اور کہاں کہاں بدعنوانی ہوئی یا شاہد آپ وہ سب باتیں بھول گئے ہیں جو آپ نے کنٹینر اور دھرنوں میں عوام سے کی تھیں میں نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی اس بات کا اظہار کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں وزیروں کی کرپشن پر انہیں سزا دینے کے بجائے کم کرپشن کرنے اور پکڑے جانے پر پہلے سے اچھی جگہ تبدیل کیاجاتا ہے تاکہ وہ آئندہ ایسا قدم نہ اٹھائیں اور پکڑے جانے کا اندیشہ بھی نہ رہے ۔ جب ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا عوام کو مزید مشکلات میں دھکیلا گیا اس وقت حکومت کس کی تھی;238; کرپشن کی انتہا ہوئی میڈیا چینلز نے شور وویلا کیا جس کے بعد تحریک انصاف کی بنیاد اورا سے پروان چڑھانے والے اور تبدیلی کی راہ میں رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے اپنا گھر فروخت کرنے والے جن کا اسم گرامی عامر کیانی ہے وہ اس وقت وزیر صحت تھے اسے عمران خان صاحب آپ نے منظر عام سے ہٹا کر پارٹی کا جنرل سیکرٹری بناکر اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے شاہد تحقیقات نہ کرانے کی وجہ عامر کیانی تو نہیں کیونکہ آپ کو پتہ ہے اگر اس کی تحقیقات کی گئیں تو اس کا کھرا بنی گالہ تک آئے گا کیونکہ ادوایات مہنگی کرنے کا فائدہ جس کمپنی کو ہوا وہ کمپنی عمران خان کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی کی ملکیت ہے جو کہ شوکت خانم ٹرسٹ کی بنیاد سے لیکر اس کے سیٹ اپ اور تحریک انصاف کی بنیاد سے لیکر اقتدار کے ایوانوں تک کے آپ کے ساتھی ہیں ڈاکٹر ظفر مرزا نے تو صرف ادویات منگوانے کے اجازت نامے پر دستخط کیے تھے باقی کام کرنے والے تو کوئی اور تھے اور ہاں وہ منسٹریز کہاں گئیں ;238; منسٹری آف کامرس کا نام کیوں غائب کیا گیا ;238;یہ محترم خان صاحب یا پھر وہ دانشور بتادیں جو ان کے ایماندار اور کرپشن فری ہونے کے گن گاتے نہیں تھکتے ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا اور تانیہ ایدروس کی قربانیاں تو چھوٹی ہیں آنے والے دنوں میں مزید قر بانیاں دیکھنے کو ملنے والی ہیں کیونکہ چیف اور اس کے ساتھی پاکستان کی معاشی صورتحال کو لیکر تذبذب کاشکار نظر آرہے ہیں اور انہیں بتایا گیا ہے کہ حالات آنے والے دنوں میں مزید گھمبیر ہوتے نظر آرہے ہیں تو لہذا پہلی بڑی قربانی وزیر خزانہ صاحب کی ہوتی لگ رہی ہے کیونکہ ان سارے حالات کو کنٹرول کرنے میں وہ بری طرح ناکام ہیں اور مستقبل میں بھی ان سے کوئی بھی امید رکھنا احمق ہونے کے مترادف ہوگا وزیر خزانہ کے نام کے لیے حماد اظہر کا نام سامنے آسکتا ہے دوسری بڑی قربانی کپتان کے وسیم اکرم پلس کی ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے ویسے تو سیاسی افق پر ایسا کچھ نظر نہیں آرہا لیکن اطلاعات کے مطابق گزشتہ کچھ وقت سے پی ٹی آئی کے اندر سے ہی کچھ لوگ بزدار کے خلاف معلومات فراہم کررہے ہیں اوران کے خلاف آئے روز پروگرام کروائے جارہے ہیں جن میں سہر فہرست پاکستان کے مشہور اینکر پرسن عمران خان کے پانچ سے زائدپروگرام ہیں جن میں کچھ ڈاکومنٹس کا ذکر کرتے نظر آرہے ہیں یہ سب حکومتی آشیر باد کے بنا ممکن نہیں اور اس بارے میں محترم شہباز گل صاحب کا نام گردش کر رہا ہے کہ وہ یہ معلومات فراہم کررہے ہیں اور بزدار کے خلاف مہم چلانے کا ٹاسک بھی انہی کے پاس ہے اندورن خانہ میں علیم خان کو متبادل کے طور پر سامنے لانے کی بھرپور تیاریاں کی جارہی ہیں یہاں پر قارئین کی نظر ایک بات کرتا چلوں کہ عمران خان کی حکومت کواس وقت کوئی خطرہ لاحق نہیں کیونکہ ٹیکنوکریٹس پر کوئی بھی سیاسی جماعت اعتبار کرنے کو تیار نہیں اور اپوزیشن بھی اس موڈ میں نہیں کہ وہ عمران خان کی حکومت گرائے اے پی سی صرف اور صرف عوام کی آنکھوں دھول جھونکنے اور عمران خان کی مہنگائی کے خلاف ناکامی کو سامنے لانے اور عوام کو لولی پاپ دیکر تسلی دینا ہے اور اسی کوشش میں رہنا ہے کہ عوام کے سامنے عمران خان کی حکومت کا طرز عمل عیاں ہوجائے اپوزیشن میڈیا میں بیٹھ کر حکومت پر پریشر بڑھانے کے بڑے بڑے دعوے کر کے پوائنٹ سیکورنگ کررہی ہے ،

اپنا تبصرہ بھیجیں